Health
ایف ڈی اے کا خوراک میں کیمیکلز اور اضافوں کی نگرانی سخت کرنے کا اعلان
امریکی ادارے ایف ڈی اے نے خوراک میں استعمال ہونے والے اجزاء اور کیمیکلز پر نگرانی کا دائرہ کار وسیع کرنے کا قدم اٹھایا ہے۔ اس اقدام کا مقصد عوام کی صحت کو یقینی بنانا اور غیر محفوظ غذائی اجزاء کی روک تھام کرنا ہے۔
امریکی محکمہ صحت کے ذیلی ادارے فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن (ایف ڈی اے) نے حال ہی میں خوراک میں استعمال ہونے والے کیمیکلز اور دیگر اضافوں (food additives) کی نگرانی کو مزید سخت کرنے کا باضابطہ فیصلہ کیا ہے۔ یہ اقدام طویل عرصے سے غذائی تحفظ اور عوامی صحت کے حوالے سے اٹھائے جانے والے مطالبات کے بعد سامنے آیا ہے، جس کا مقصد روزمرہ کی خوراک میں شامل ہونے والے مشکوک اجزاء کا باریک بینی سے جائزہ لینا ہے۔
نئے لائحہ عمل کے تحت ایف ڈی اے ان تمام کیمیکلز اور مادی اجزاء کا از سر نو جائزہ لے گا جو پیک شدہ اور پروسیس شدہ خوراک کا حصہ بنتے ہیں۔ اس سے قبل ناقدین کی طرف سے یہ تشویش ظاہر کی جا رہی تھی کہ بہت سے ایسے کیمیکلز جو برسوں پہلے منظور کیے گئے تھے، جدید سائنسی تحقیق کی روشنی میں مکمل طور پر محفوظ ثابت نہیں ہوتے۔ اب ادارے نے اس بات کو یقینی بنانے کا تہیہ کیا ہے کہ مارکیٹ میں آنے والی ہر خوراک سخت ترین حفاظتی معیار پر پوری اترے۔
اس فیصلے کے نتیجے میں فوڈ انڈسٹری پر بھی دباؤ بڑھے گا کہ وہ اپنی مصنوعات میں استعمال ہونے والے اجزاء کی فہرست اور ان کے ممکنہ اثرات کے حوالے سے مزید شفافیت کا مظاہرہ کریں۔ ماہرین صحت نے اس قدم کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے صارفین کو طویل المعادی بیماریوں سے بچانے میں بڑی مدد ملے گی۔ ایف ڈی اے آنے والے مہینوں میں اس حوالے سے مزید سخت ضابطے نافذ کرے گا تاکہ کسی بھی قسم کے غفلت کی گنجائش نہ رہے۔