Business
فشر اینڈ پائیکل اپلائنسز میں بڑے پیمانے پر چھانٹیوں کا اعلان
مشہور آلات ساز کمپنی فشر اینڈ پائیکل اپلائنسز نے اپنی کاروباری حکمت عملی میں تبدیلی کے پیش نظر نیوزی لینڈ میں 44 ملازمین کو نوکری سے نکالنے کا فیصلہ کیا ہے۔ کمپنی کے اعلیٰ حکام کا کہنا ہے کہ یہ مشکل فیصلہ صارفین کی بدلتی ہوئی ضروریات کے مطابق کاروبار کو ڈھالنے کے لیے لیا گیا ہے۔
مشہور عالمی آلات ساز کمپنی فشر اینڈ پائیکل اپلائنسز نے نیوزی لینڈ میں اپنے آپریشنز کے دوران ایک بڑا اور مشکل فیصلہ کرتے ہوئے 44 ملازمین کو ملازمت سے فارغ کر دیا ہے۔ کمپنی کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ اقدام کاروباری ڈھانچے میں تبدیلی اور مستقبل کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے اٹھایا گیا ہے۔ انتظامیہ کے مطابق، مارکیٹ میں بڑھتے ہوئے مسابقتی رجحانات اور صارفین کی بدلتی ہوئی ترجیحات کو مدنظر رکھتے ہوئے کمپنی کو اپنی حکمت عملی میں تبدیلی لانے کی ضرورت پیش آئی ہے۔
کمپنی کے اعلیٰ عہدیدار وٹن ہننا نے اس فیصلے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہم ان تمام لوگوں کے لیے گہری ہمدردی رکھتے ہیں جنہیں اس تبدیلی کے نتیجے میں ملازمت سے ہاتھ دھونا پڑا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ اقدام خوشی سے نہیں بلکہ کاروباری مجبوری کے تحت اٹھایا گیا ہے تاکہ کمپنی اپنے صارفین کی توقعات اور ضروریات کے مطابق خدمات فراہم کرنا جاری رکھ سکے۔ کمپنی کا ماننا ہے کہ بدلتے ہوئے معاشی حالات میں کاروبار کو مستحکم رکھنے کے لیے ایسی سخت اصلاحات ناگزیر ہوتی ہیں۔
یہ چھانٹیاں ایسے وقت میں کی گئی ہیں جب عالمی سطح پر کئی بڑی کمپنیاں معاشی غیر یقینی صورتحال کے پیش نظر اپنے اخراجات کم کرنے پر مجبور ہیں۔ فشر اینڈ پائیکل کا شمار نیوزی لینڈ کی بڑی صنعتی کمپنیوں میں ہوتا ہے، اور اس اقدام سے مقامی سطح پر تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ کمپنی اب اپنی توجہ مصنوعات کے معیار اور ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے انضمام پر مرکوز کر رہی ہے تاکہ بین الاقوامی مارکیٹ میں اپنی پوزیشن کو مزید مستحکم بنایا جا سکے۔
متاثرہ ملازمین کے لیے کمپنی کی جانب سے تعاون کی یقین دہانی بھی کرائی گئی ہے، جس میں قانونی تقاضوں کے مطابق پیکیج اور ملازمت کی تلاش میں مدد شامل ہے۔ کمپنی نے واضح کیا ہے کہ وہ اپنے آپریشنز کو زیادہ موثر اور کسٹمر سینٹرک بنانے کے لیے پرعزم ہے۔ اگرچہ یہ ایک تکلیف دہ عمل ہے، لیکن انتظامیہ کے مطابق مستقبل کے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے یہ فیصلہ کمپنی کی طویل مدتی بقا اور ترقی کے لیے ضروری تھا تاکہ نیوزی لینڈ کی معیشت میں اپنا کردار بہتر انداز میں نبھایا جا سکے۔