Technology
مصنوعی ذہانت اور مستقبل: ایلون مسک کا خوفناک انکشاف
ٹیکنالوجی کے ماہر ایلون مسک نے خبردار کیا ہے کہ مصنوعی ذہانت کی ترقی کی رفتار کو دیکھتے ہوئے دس سال کے اندر انسانی کنٹرول برقرار رہنا مشکل ہوگا۔ ان کا کہنا ہے کہ ارتقائی عمل کے لحاظ سے انسان اور اے آئی کے درمیان فرق چمپینزی اور انسان جیسا ہو سکتا ہے۔
دنیا بھر میں مصنوعی ذہانت (AI) کے حوالے سے جاری بحث کے درمیان، معروف کاروباری شخصیت ایلون مسک نے ایک انتہائی چونکا دینے والی پیش گوئی کی ہے۔ مسک کا ماننا ہے کہ اگلے دس برسوں کے اندر انسانوں کا ٹیکنالوجی پر کنٹرول برقرار رہنا نہ ہونے کے برابر ہے کیونکہ مصنوعی ذہانت کی ترقی کی رفتار انسانی عقل کی پہنچ سے باہر ہوتی جا رہی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ جس رفتار سے اے آئی کے ماڈلز خود کو بہتر بنا رہے ہیں، اس سے یہ واضح ہے کہ مستقبل میں انسانی مداخلت کی گنجائش بہت کم رہ جائے گی۔
ایلون مسک نے اپنے حالیہ تبصرے میں انسانی ارتقاء کا موازنہ کرتے ہوئے کہا کہ اگر ہم مصنوعی ذہانت کو ایک سپر انٹیلیجنس کے طور پر دیکھیں تو انسانوں کی حیثیت اس کے سامنے محض ایک چمپینزی جیسی ہو جائے گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ چمپینزی کبھی یہ نہیں سمجھ سکتے کہ انسان کس طرح کام کرتے ہیں یا دنیا کو کیسے کنٹرول کرتے ہیں، اسی طرح مستقبل قریب میں انسان بھی یہ سمجھنے سے قاصر ہوں گے کہ مصنوعی ذہانت کے فیصلے کیسے کیے جا رہے ہیں۔ یہ ٹیکنالوجی خود مختار ہو کر اپنے فیصلے خود کرنے کی صلاحیت حاصل کر لے گی۔
ماہرین کے مطابق، مسک کا یہ بیان کوئی پہلی مرتبہ نہیں آیا بلکہ وہ مسلسل اس خدشے کا اظہار کرتے رہے ہیں کہ اگر اے آئی کو درست ضابطہ اخلاق کے تحت کنٹرول نہ کیا گیا تو یہ انسانی تہذیب کے لیے خطرہ بن سکتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ہمیں صرف تکنیکی ترقی پر توجہ نہیں دینی چاہیے بلکہ اس کے سماجی اور سیکیورٹی اثرات کو بھی مدنظر رکھنا ہوگا۔ مستقبل میں انسانیت کو اس بات کا فیصلہ کرنا ہوگا کہ وہ ٹیکنالوجی کے ساتھ ایک ہم آہنگ تعلق کیسے قائم رکھ سکتی ہے۔
اس پیش گوئی نے دنیا بھر کے ٹیکنالوجی حلقوں میں ہلچل مچا دی ہے، جہاں ایک طرف اے آئی کو ترقی کا اہم ذریعہ سمجھا جا رہا ہے، وہیں دوسری طرف اس کے غیر متوقع نتائج پر تشویش بھی بڑھ رہی ہے۔ ایلون مسک کا یہ مؤقف دنیا کو سوچنے پر مجبور کر رہا ہے کہ آیا ہم نے واقعی ایک ایسی طاقت کو جنم دے دیا ہے جس پر قابو پانا اب ممکن نہیں رہے گا۔ آنے والے دس سال نہ صرف ٹیکنالوجی بلکہ انسانی تاریخ کے لیے فیصلہ کن ثابت ہوں گے۔