LIVE
Loading Breaking News...

پاکستان کی معاشی اصلاحات اور وزیر خزانہ کا اہم بیان

News Image
وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب نے واضح کیا ہے کہ حکومت ملکی معیشت کو مستحکم کرنے کے لیے طویل مدتی ساختی اصلاحات کے ایجنڈے پر سختی سے عمل پیرا ہے۔ انہوں نے ان خیالات کا اظہار وفاقی حکومت کے حقوق کے تعین اور رائٹ سائزنگ سے متعلق کمیٹی کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔
وفاقی وزیر خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ حکومت ملکی معیشت کو پائیدار بنیادوں پر استوار کرنے کے لیے سخت لیکن ناگزیر ساختی اصلاحات پر مکمل طور پر کاربند ہے۔ انہوں نے ان خیالات کا اظہار حال ہی میں وزارت خزانہ میں منعقدہ ایک اہم اجلاس کے دوران کیا، جس کی صدارت وہ خود کر رہے تھے۔ یہ اجلاس وفاقی حکومت کے اداروں کی 'رائٹ سائزنگ' یعنی تنظیم نو اور ان کے حجم کو کم کرنے کے حوالے سے تشکیل دی گئی ذیلی کمیٹی کے حوالے سے منعقد کیا گیا تھا، جس میں سرکاری اخراجات میں کمی اور کارکردگی کو بڑھانے کے طریقوں پر غور کیا گیا۔ وزیر خزانہ نے اس بات پر زور دیا کہ موجودہ دور میں معاشی استحکام کے لیے ٹھوس فیصلوں کی ضرورت ہے اور حکومت اس ضمن میں کسی بھی قسم کی پس و پیش سے کام نہیں لے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ سرکاری شعبے میں غیر ضروری اخراجات کو کم کرنا اور سرکاری اداروں کی کارکردگی کو بہتر بنانا حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ اس عمل سے نہ صرف قومی خزانے پر بوجھ کم ہوگا بلکہ عوامی خدمات کی فراہمی میں بھی شفافیت اور بہتری آئے گی۔ سینیٹر اورنگزیب نے کہا کہ یہ اصلاحات صرف وقتی اقدامات نہیں بلکہ طویل المدتی معاشی نمو کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہیں۔ اس کے علاوہ، وفاقی وزیر نے حالیہ ملاقاتوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور بین الاقوامی شراکت داروں، خاص طور پر امریکہ کے ساتھ تجارتی تعلقات میں نمایاں پیش رفت ہوئی ہے۔ پاک-امریکہ تجارتی فریم ورک کے تحت ہونے والی بات چیت مثبت سمت میں آگے بڑھ رہی ہے، جس سے پاکستان کی برآمدات اور غیر ملکی سرمایہ کاری کے نئے مواقع پیدا ہونے کی توقع ہے۔ انہوں نے تسلیم کیا کہ اگرچہ دوطرفہ تعلقات پہلے سے بہتر ہوئے ہیں تاہم ابھی بہت سا کام کرنا باقی ہے اور کسی بھی سطح پر غفلت یا اطمینان کی گنجائش نہیں ہے۔ آخر میں، وفاقی وزیر خزانہ نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان اپنی معاشی پالیسیوں میں تسلسل لائے گا تاکہ ملک کو درپیش چیلنجز سے نکالا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی مالیاتی اداروں کے ساتھ معاہدوں اور مقامی سطح پر مالیاتی نظم و ضبط کے ذریعے پاکستان کو خود انحصاری کی راہ پر گامزن کیا جائے گا۔ حکومت کی جانب سے کیے جانے والے یہ اقدامات نہ صرف معاشی بحالی کے لیے ضروری ہیں بلکہ آنے والی نسلوں کے لیے ایک مضبوط اور مستحکم معاشی مستقبل کی ضمانت بھی فراہم کرتے ہیں۔