LIVE
Loading Breaking News...

پاک ایران تجارتی اور لاجسٹکس تعاون کا نیا روڈ میپ تیار

News Image
ایران اور پاکستان کے مابین دوطرفہ تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کے لیے لاجسٹکس کے شعبے میں تعاون کا ایک نیا روڈ میپ تیار کر لیا گیا ہے۔ دونوں برادر ممالک کے تجارتی حلقوں نے اس پیش رفت کا خیرمقدم کرتے ہوئے سرحدی تجارت کو جلد از جلد فعال بنانے پر زور دیا ہے۔
تہران اور اسلام آباد کے مابین معاشی اور تجارتی روابط کو فروغ دینے کی کوششوں کے تحت لاجسٹکس کے شعبے میں تعاون کے لیے ایک بالکل نیا روڈ میپ تیار کر لیا گیا ہے۔ تہران ٹائمز کی ایک رپورٹ کے مطابق ایران نے واضح کیا ہے کہ پاکستان کے ساتھ اس کے موجودہ تعلقات ماضی کے مقابلے میں کہیں زیادہ اہمیت اختیار کر چکے ہیں، اور دونوں ممالک باہمی تجارت کے حجم کو بڑھانے کے لیے پرعزم ہیں۔ اس نئی پیش رفت کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان سرحدی تجارت میں حائل رکاوٹوں کو دور کرنا اور تجارتی سرگرمیوں کو تیز کرنا ہے۔ پاک ایران سرحد پر موجود تاجر اور کاروباری شخصیات طویل عرصے سے کاروبار کے باقاعدہ آغاز کے منتظر تھے اور اب وہ اس نئے روڈ میپ کے بعد مزید انتظار کرنے پر بے صبری کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ سرحدی منڈیوں اور گزرگاہوں کو مکمل طور پر فعال بنانے سے مقامی معیشت پر مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔ دوسری جانب پاکستانی میڈیا میں بھی پاک ایران تجارت کے مستقبل پر مباحث جاری ہیں۔ دی ایکسپریس ٹریبون نے اپنی رپورٹ میں اس بات پر بحث کی ہے کہ آیا دونوں ممالک کے درمیان دس ارب ڈالر کی تجارت کا ہدف ایک خواب ہے یا حقیقت بن سکتا ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اس ہدف کے حصول کے لیے ایرانی مارکیٹ تک مسابقتی اور آسان رسائی ناگزیر ہے۔ اسلام آباد پوسٹ کے مطابق معروف کاروباری رہنما فہیم سہگل نے بھی ایرانی مارکیٹ تک بلا تعطل اور مسابقتی رسائی کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ دونوں ممالک کے تاجروں کو درپیش مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جانا چاہیے تاکہ نئے لاجسٹکس روڈ میپ کے ثمرات جلد از جلد دونوں ملکوں کے عوام تک پہنچ سکیں اور خطے میں معاشی استحکام کو فروغ مل سکے۔