LIVE
Loading Breaking News...

مارک زکربرگ کا اے آئی ریس جیتنے کے لیے نیا حکمت عملی کا اعلان

News Image
میٹا کے بانی مارک زکربرگ نے مصنوعی ذہانت کے شعبے میں کامیابی حاصل کرنے کے لیے اپنی کمپنی کے پرانے اور آزمودہ طریقوں کو دوبارہ اپنانا شروع کر دیا ہے۔ اوپن سورس ماڈلز کو فروغ دے کر وہ اوپن اے آئی اور اینتھروپک جیسی بڑی کمپنیوں کو کڑا مقابلہ دینے کا ارادہ رکھتے ہیں۔
ٹیکنالوجی کی دنیا کی معروف ترین کمپنی میٹا کے چیف ایگزیکٹو آفیسر مارک زکربرگ نے مصنوعی ذہانت (AI) کی شدید مسابقتی دوڑ میں برتری حاصل کرنے کے لیے ایک بالکل نئی حکمت عملی کا آغاز کیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق، زکربرگ اب فیس بک کے ماضی کے پرانے اور کامیاب حربوں کی طرف واپس لوٹ رہے ہیں تاکہ اس نئی تکنیکی جنگ میں فتح سمیٹی جا سکے۔ انہوں نے हाल ਹੀમાં اپنی مصنوعی ذہانت سے متعلق طویل وژن پیش کیا ہے جس میں اوپن سورس اپروچ کو مرکزی حیثیت دی گئی ہے۔ میٹا کی جانب سے اپنے طاقتور ترین مصنوعی ذہانت کے ماڈلز کو اوپن سورس یا اوپن ویٹ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، جسے صنعت کے ماہرین اوپن اے آئی اور اینتھروپک جیسی حریف کمپنیوں پر براہ راست ایک بڑا حملہ قرار دے رہے ہیں۔ اس حکمت عملی کا مقصد دنیا بھر کے ڈویلپرز اور محققین کو کم لاگت اور بہتر رسائی فراہم کرنا ہے، بالکل اسی طرح جیسے فیس بک نے ماضی میں اپنی ابتدائی ترقی کے دوران اوپن سورس سافٹ ویئر کے ذریعے دنیا بھر میں اپنی جڑیں مضبوط کی تھیں۔ زکربرگ کا ماننا ہے کہ مصنوعی ذہانت کا مستقبل بند دروازوں کے پیچھے نہیں بلکہ ایک کھلے ماحول میں پوشیدہ ہے جہاں زیادہ سے زیادہ لوگ اس ٹیکنالوجی سے فائدہ اٹھا سکیں اور اس میں بہتری لا سکیں۔ اس نئے وژن کے تحت، میٹا مختلف سستے اور مؤثر ماڈلز متعارف کرا رہا ہے جو مارکیٹ میں پہلے سے موجود مہنگے متبادلات کا منہ توڑ جواب ثابت ہوں گے۔ ٹیکنالوجی کے حلقوں میں اس فیصلے کو زبردست پذیرائی مل رہی ہے اور یہ دیکھنا باقی ہے کہ آیا یہ پرانا پلے بک فارمولا میٹا کو اے آئی کی دنیا کا بادشاہ بناتا ہے یا نہیں۔