World
باب المندب اور حوثی تنازعہ: عالمی تجارت پر اثرات اور تازہ ترین صورتحال
یمن کے حوثی باغیوں کی جانب سے بحیرہ احمر اور باب المندب کے راستے سعودی عرب کی ناکہ بندی کے بعد یہ اہم سمندری گزرگاہ ایک بار پھر عالمی سطح پر بحث کا مرکز بن گئی ہے۔ اس صورتحال سے بین الاقوامی تجارت اور خطے میں سیکورٹی کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔
یمن کے حوثی باغیوں کی جانب سے بحیرہ احمر اور باب المندب کے اہم آبی گزرگاہ پر دباؤ بڑھانے اور سعودی عرب کی ناکہ بندی کے اقدامات کے بعد یہ خطہ ایک بار پھر عالمی توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔ بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق حالیہ حملوں اور دھمکیوں کے بعد اس خطے سے گزرنے والی شپنگ اور تجارتی سرگرمیوں میں نمایاں کمی دیکھی گئی ہے، جس نے دنیا بھر کے معاشی ماہرین کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ باب المندب دنیا کی مصروف ترین تجارتی گزرگاہوں میں سے ایک ہے جہاں سے ایشیا اور یورپ کے درمیان تیل اور دیگر سامانِ تجارت کی ترسیل ہوتی ہے۔ حوثیوں کی جانب سے بڑھتی ہوئی کشیدگی اور نئے تنازعہ کے خدشات نے سابقہ جنگوں کے مقابلے میں ایک مختلف نوعیت اختیار کر لی ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس حوض میں تجارتی جہازوں کی نقل و حرکت متاثر ہونے سے عالمی منڈی میں سپلائی چین متاثر ہو سکتی ہے اور توانائی کی قیمتوں میں بھی اتار چڑھاؤ کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ خطے میں موجود عالمی طاقتیں اور علاقائی ممالک اس صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں تاکہ عالمی تجارت کے اس اہم ترین راستے کو محفوظ بنایا جا سکے اور کسی بھی بڑے بحران کو روکا جا سکے۔ یمنی مسلح افواج اور متعلقہ حلقوں نے بھی اس خطے میں سیکیورٹی کو یقینی بنانے کے لیے انتباہ جاری کیا ہے تاکہ بین الاقوامی بحری گزرگاہوں کو کسی بھی خطرے سے محفوظ رکھا جا سکے۔