LIVE
Loading Breaking News...

ڈونلڈ ٹرمپ کا ایران سے امریکی فوجیوں کی ہلاکتوں پر ہرجانے کا مطالبہ

News Image
نومنتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ گزشتہ کئی دہائیوں کے دوران امریکی فوجیوں کی ہلاکتوں کے بدلے بھاری ہرجانہ ادا کرے۔ یہ مطالبہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے حوالے سے تہران کی نئی شرائط کے باعث دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات کی امیدیں مدہم پڑتی جا رہی ہیں۔
واشنگٹن: امریکی سیاسی و عسکری منظر نامے میں ایک بار پھر ہلچل مچ گئی ہے کیونکہ نو منتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تہران حکومت کے سامنے ایک انتہائی سخت مطالبہ رکھ دیا ہے۔ رپورٹس کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ایران کو گزشتہ کئی دہائیوں کے دوران ہونے والی امریکی فوجیوں کی ہلاکتوں اور تنازعات کے عوض باقاعدہ طور پر ہرجانہ ادا کرنا ہوگا۔ ٹرمپ کا یہ تازہ ترین بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں کشیدگی کم ہونے کے بجائے مزید بڑھتی ہوئی دکھائی دے رہی ہے۔ دوسری جانب بین الاقوامی میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ یہ کشیدگی اس وقت مزید شدت اختیار کر گئی جب آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے معاملے پر فریقین کے درمیان ڈیڈ لاک پیدا ہو گیا۔ تہران کی جانب سے آبنائے ہرمز کو کھولنے کے لیے کچھ نئی شرائط رکھی گئی تھیں جن کے جواب میں ڈونلڈ ٹرمپ نے سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے یہ الٹی میٹم اور ہرجانے کا مطالبہ پیش کر دیا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس تازہ ترین پیش رفت کے بعد خطے میں امن قائم کرنے اور سفارتی کوششوں کے ذریعے معاملات کو سلجھانے کی امیدیں تیزی سے دم توڑ رہی ہیں۔ بین الاقوامی امور کے تجزیہ کاروں کے مطابق، ڈونلڈ ٹرمپ کا یہ مطالبہ واشنگٹن اور تہران کے تعلقات میں ایک نئے محاذ کا آغاز ثابت ہو سکتا ہے۔ آبنائے ہرمز عالمی تجارت اور تیل کی ترسیل کے لیے ایک انتہائی حساس اور اہم آبی گزرگاہ ہے، جہاں کسی بھی قسم کی کشیدگی کا اثر پوری دنیا کی معیشت پر پڑتا ہے۔ تہران کی جانب سے پیش کردہ شرائط اور اس کے جواب میں امریکی قیادت کے سخت مطالبات نے خلیجی خطے کی صورتحال کو ایک بار پھر غیر یقینی صورتحال سے دوچار کر دیا ہے، جس پر عالمی برادری کی بھی گہری نظر ہے۔