Business
پاکستان ایران تجارتی تعلقات اور آزاد تجارتی معاہدے پر اہم پیشرفت
پاکستان انڈسٹریل اینڈ ٹریڈرز ایسوسی ایشنز فرنٹ نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ ایران کے ساتھ آزاد تجارتی معاہدے کے امکانات کو عملی تجارت میں بدلا جائے۔ تاجر برادری نے پاک ایران سرحد پر تجارتی سرگرمیوں کے آغاز میں تاخیر پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔
پاکستان انڈسٹریل اینڈ ٹریڈرز ایسوسی ایشنز فرنٹ (پی آئی اے ایف) کی جانب سے حکومت پر زور دیا گیا ہے کہ وہ ایران کے ساتھ طے پانے والے آزاد تجارتی معاہدے (ایف ٹی اے) کی پیش رفت کو فوری طور پر باہمی تجارت اور سرمایہ کاری میں اضافے کا ذریعہ بنائے۔ پی آئی اے ایف کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ دونوں برادر ممالک کے مابین تعلقات اب پہلے سے کہیں زیادہ اہمیت اختیار کر چکے ہیں، تاہم زمینی حقائق یہ ہیں کہ تجارتی حجم میں اضافہ تاحال ایک بڑا چیلنج بنا ہوا ہے۔ تاجر برادری کا مطالبہ ہے کہ دونوں ممالک کے مابین 10 ارب ڈالر کے تجارتی اہداف کو محض خواب کے بجائے ٹھوس معاشی پالیسیوں کے ذریعے حقیقت کا روپ دیا جائے۔
اس وقت پاک ایران سرحد پر موجود تاجر اور کاروباری افراد تجارتی سرگرمیوں کے مکمل آغاز کے منتظر ہیں اور ان میں بے چینی بڑھ رہی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ایرانی مارکیٹ تک پاکستانی مصنوعات کی مسابقتی رسائی یقینی بنانا پاکستان کے لیے انتہائی ضروری ہے تاکہ خطے میں معاشی استحکام کو فروغ دیا جا سکے۔ فیہم سہگل جیسے کاروباری رہنماؤں نے اس بات پر زور دیا ہے کہ اگر پاکستان اپنی مصنوعات کو ایرانی منڈیوں میں سستی اور معیاری قیمتوں پر پہنچانے میں کامیاب ہو جائے تو اس سے دونوں جانب کی مقامی صنعتوں کو زبردست فروغ ملے گا اور روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔
موجودہ بین الاقوامی صورتحال کے تناظر میں، ایران اور پاکستان کے مابین دوطرفہ تجارت کو فروغ دینا جغرافیائی اور سیاسی لحاظ سے بھی ناگزیر ہے۔ دونوں ملکوں کے حکام کو چاہیے کہ وہ بینکنگ چینلز کی رکاوٹوں کو دور کریں اور بارڈر مارکیٹوں کو مکمل فعال بنائیں۔ تاجروں کی جانب سے یہ شکایت بھی سامنے آئی ہے کہ سرحد پر سہولیات کے فقدان کے باعث تجارتی سامان کی ترسیل میں تاخیر ہوتی ہے، جس سے وقت اور لاگت دونوں کا نقصان ہوتا ہے۔ اگر دونوں حکومتیں سنجیدگی کا مظاہرہ کریں تو آزاد تجارتی معاہدے سے پیدا ہونے والے مواقع پورے خطے کی معیشت کا نقشہ بدل سکتے ہیں۔