LIVE
Loading Breaking News...

یمن میں حوثی حملوں میں تیزی، سعودی عرب کے ساتھ کشیدگی میں اضافہ

News Image
یمن جانے والی ایک ایرانی پرواز کو روکے جانے کے واقعے نے حوثی باغیوں اور سعودی عرب کے درمیان جاری تناؤ کو ایک نئے خطرناک موڑ پر لا کھڑا کیا ہے۔ اس کشیدگی کے بعد سے حوثی حملوں میں اضافہ ہوا ہے جس کے نتیجے میں متعدد ہلاکتیں اور جانی نقصانات ہو چکے ہیں۔
یمن میں ایک ایرانی پرواز پر عائد کی گئی پابندی نے حوثی باغیوں اور سعودی عرب کے درمیان طویل عرصے سے جاری کشیدگی کو ایک بار پھر شدت بخش دی ہے۔ مبصرین کے مطابق، یہ واقعہ اس تازہ ترین تناؤ کا مرکزی نقطہ بنا ہے جس نے خطے کے امن کو داؤ پر لگا دیا ہے۔ ایرانی طیارے کو یمن جانے سے روکے جانے کے بعد حوثیوں کی جانب سے جوابی کارروائیوں کا سلسلہ شروع ہوا، جس نے سعودی عرب اور اس کے اتحادیوں کو شدید تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ اس واقعے نے نہ صرف سفارتی تعلقات کو متاثر کیا ہے بلکہ زمینی حقائق کو بھی تبدیل کر دیا ہے۔ حالیہ ہفتوں کے دوران حوثی باغیوں کی جانب سے کیے جانے والے حملوں کے نتیجے میں یمن میں کم از کم 11 افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جبکہ ان کے نشانے پر سعودی عرب کی ایک آئل ریفائنری بھی رہی ہے۔ ان حملوں میں نہ صرف فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا جا رہا ہے بلکہ عام شہری بھی ان کی زد میں آ رہے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق، المخا شہر میں حوثیوں کے ایک حملے میں 3 عام شہریوں سمیت 7 افراد اپنی جانیں گنوا بیٹھے اور تقریباً 30 افراد زخمی ہوئے۔ ان واقعات کے بعد سعودی حمایت یافتہ فورسز اور حوثیوں کے درمیان لڑائی میں تیزی آئی ہے، جس سے انسانی بحران میں مزید سنگینی پیدا ہو رہی ہے۔ اس صورتحال پر عالمی سطح پر شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔ عرب لیگ اور خلیج تعاون کونسل (GCC) نے حوثی باغیوں کے ان حملوں کی سخت الفاظ میں مذمت کی ہے اور خطے میں سیکورٹی برقرار رکھنے کے لیے سعودی عرب کی حمایت کا اعادہ کیا ہے۔ بین الاقوامی برادری کا ماننا ہے کہ اگر ان حملوں کو فوری طور پر نہ روکا گیا تو یہ یمن کے اندر جاری خانہ جنگی کو ایک وسیع تر علاقائی تصادم میں تبدیل کر سکتے ہیں۔ حوثی باغیوں کی جانب سے سعودی حمایت یافتہ کرائے کے فوجیوں کے ٹھکانوں پر حملوں کے اعلانات نے بھی اس بات کی تصدیق کی ہے کہ دونوں فریقین اب پہلے سے زیادہ جارحانہ حکمت عملی اپنا رہے ہیں۔ مستقبل کے حوالے سے ماہرین کا کہنا ہے کہ یمن میں جاری اس تعطل کا واحد حل سفارتی بات چیت ہی ہے، تاہم ایرانی اثر و رسوخ اور علاقائی طاقتوں کی کشمکش نے امن کی کوششوں کو تعطل کا شکار کر دیا ہے۔ سعودی عرب مسلسل اپنی سرحدوں اور تنصیبات کے تحفظ پر زور دے رہا ہے جبکہ حوثی باغی اپنی سیاسی اور عسکری پوزیشن کو مضبوط کرنے کے لیے مسلسل دباؤ ڈال رہے ہیں۔ آنے والے دن یمن کے لیے انتہائی اہم ثابت ہو سکتے ہیں کیونکہ بڑھتی ہوئی عسکری سرگرمیاں نہ صرف انسانی جانوں کے لیے خطرہ ہیں بلکہ پورے خطے میں اقتصادی عدم استحکام کا باعث بھی بن رہی ہیں۔