LIVE
Loading Breaking News...

امریکی شرح سود میں مزید اضافے کا امکان، فیڈرل ریزرو کی صدر کا بیان

News Image
کلیولینڈ فیڈرل ریزرو کی صدر بیت ہیمک نے واضح کیا ہے کہ امریکی معیشت میں افراط زر کو ہدف کے مطابق لانے کے لیے شرح سود میں مزید اضافہ ناگزیر ہو سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ صرف 25 بیس پوائنٹس کا اضافہ معاشی بہتری کے لیے ناکافی ہوگا اور پالیسی سازوں کو کئی مراحل میں اقدامات اٹھانے ہوں گے۔
امریکی فیڈرل ریزرو کی کلیولینڈ برانچ کی صدر بیت ہیمک نے ایک اہم بیان میں عندیہ دیا ہے کہ ملک میں بڑھتی ہوئی افراط زر کو کنٹرول کرنے کے لیے شرح سود میں مزید اضافہ ضروری ہو سکتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ معاشی استحکام کے لیے محض ایک محدود اضافہ، جیسے کہ 25 بیس پوائنٹس، طویل المدتی معاشی اہداف کے حصول کے لیے ناکافی ثابت ہوگا۔ ہیمک نے زور دیا کہ افراط زر کی موجودہ بلند شرح کو دیکھتے ہوئے فیڈرل ریزرو کو محتاط لیکن فیصلہ کن اقدامات کی ضرورت ہے تاکہ قیمتوں کو قابو میں لایا جا سکے۔ اپنے حالیہ انٹرویو کے دوران، بیت ہیمک نے کہا کہ انہیں اس بات کا اندازہ ہے کہ معیشت پر دباؤ موجود ہے، لیکن قیمتوں میں استحکام کے بغیر پائیدار ترقی ممکن نہیں۔ انہوں نے تسلیم کیا کہ اگرچہ حالیہ جاب مارکیٹ کی رپورٹس کمزور رہی ہیں، تاہم اس کے باوجود شرح سود میں اضافے کا عمل جاری رہنا چاہیے۔ انہوں نے واضح کیا کہ وہ قبل از وقت یہ پیشگوئی نہیں کر سکتیں کہ کتنی بار یا کس رفتار سے شرح سود میں اضافہ کیا جائے گا، لیکن یہ طے ہے کہ مستقبل میں کئی مراحل پر سود کی شرح بڑھانے کی ضرورت پیش آ سکتی ہے۔ دوسری جانب کینساس سٹی فیڈرل ریزرو کے سربراہ شمڈ نے بھی اسی طرح کے خیالات کا اظہار کیا ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکی مرکزی بینک کے اندر اس بات پر اتفاق رائے بڑھ رہا ہے کہ افراط زر کے خلاف سخت مانیٹری پالیسی کو برقرار رکھا جائے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر فیڈرل ریزرو کی جانب سے شرح سود میں اضافے کا سلسلہ جاری رہتا ہے تو اس کے اثرات نہ صرف امریکی منڈیوں بلکہ عالمی مالیاتی نظام پر بھی مرتب ہوں گے۔ سرمایہ کار اب فیڈرل ریزرو کی آئندہ میٹنگز پر نظریں جمائے بیٹھے ہیں تاکہ پالیسی کی سمت کا حتمی تعین کیا جا سکے۔ مجموعی طور پر، ہیمک کا بیان اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ امریکی مرکزی بینک افراط زر کو ہر قیمت پر کم کرنے کے لیے پرعزم ہے۔ اگرچہ شرح سود میں اضافے سے قرض لینے کی لاگت میں اضافہ ہوتا ہے اور کاروباری سرگرمیوں پر عارضی اثر پڑ سکتا ہے، لیکن پالیسی سازوں کا استدلال ہے کہ افراط زر کو چھوڑ دینا معیشت کے لیے طویل مدت میں زیادہ نقصان دہ ہو سکتا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ فیڈرل ریزرو اپنے آئندہ اجلاسوں میں کس طرح کے اعداد و شمار کا جائزہ لے کر حتمی فیصلے کرتا ہے۔