Business
پاکستان میں غیر ملکی سرمایہ کاری: کوئین کمپنی کا وزیراعظم سے ایک ارب ڈالر کے منصوبوں پر نوٹس لینے کا مطالبہ
جنوبی کوریا کی معروف انرجی کمپنی کوئین (KOEN) نے پاکستان میں ایک ارب ڈالر کی ہائیڈرو پاور سرمایہ کاری میں غیر ضروری تاخیر اور رکاوٹوں پر وزیراعظم شہباز شریف کو خط لکھ دیا ہے۔ کمپنی نے حکومتی بے توجہی اور ریگولیٹری فیصلوں میں تاخیر کو ملکی معیشت اور غیر ملکی سرمایہ کاری کے لیے نقصان دہ قرار دیا ہے۔
پاکستان میں غیر ملکی سرمایہ کاری کے فروغ کے دعوے اس وقت شدید سوالیہ نشان کی زد میں آ گئے ہیں جب جنوبی کوریا کی معروف توانائی ساز کمپنی 'کوئین' (KOEN) نے ملک میں ایک ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کے منصوبے تعطل کا شکار ہونے پر وزیراعظم شہباز شریف سے فوری مداخلت کی اپیل کی ہے۔ ذرائع کے مطابق کمپنی نے وزیراعظم کے نام ارسال کردہ ایک تفصیلی خط میں شکایت کی ہے کہ بیوروکریٹک رکاوٹوں اور ریگولیٹری سطح پر مسلسل تاخیر کی وجہ سے ان کے اربوں ڈالر کے ہائیڈرو پاور منصوبے التوا کا شکار ہو چکے ہیں، جس سے پاکستان میں سرمایہ کاروں کا اعتماد متزلزل ہو رہا ہے۔ جنوبی کورین کمپنی کا مؤقف ہے کہ انہوں نے پاکستان کے توانائی کے شعبے میں بہتری اور سستی بجلی کی فراہمی کے لیے طویل المدتی منصوبوں کا خاکہ تیار کیا تھا، تاہم متعلقہ محکموں کی جانب سے مبینہ طور پر غیر منصفانہ روڑے اٹکائے جا رہے ہیں اور ضروری منظوریوں کے حصول میں جان بوجھ کر تاخیر کی جا رہی ہے۔ اس صورتحال نے نہ صرف ایک ارب ڈالر کی براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری کو خطرے میں ڈال دیا ہے بلکہ بین الاقوامی سطح پر پاکستان کے کاروباری ماحول کے حوالے سے بھی منفی پیغام جا رہا ہے۔ معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ موجودہ ملکی حالات میں جہاں ملک کو شدید معاشی چیلنجز کا سامنا ہے، غیر ملکی سرمایہ کاروں کی اس طرح کی شکایات انتہائی تشویشناک ہیں۔ اگر حکومت نے بروقت اس معاملے کا نوٹس نہ لیا اور بیوروکریٹک تاخیر کے اس کلچر کو ختم نہ کیا تو مستقبل میں دیگر غیر ملکی ادارے بھی پاکستان میں سرمایہ کاری سے کترائیں گے۔ وزیراعظم شہباز شریف سے توقع کی جا رہی ہے کہ وہ اس سنگین معاملے کا فوری نوٹس لیں گے تاکہ سرمایہ کاروں کے تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے اور ملک میں مزید تاخیر کے بغیر اقتصادی ترقی کے عمل کو تیز کیا جا سکے۔