World
ٹرمپ اور نیتن یاہو کے تعلقات پر اہم بیان
سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کے ساتھ اپنے تعلقات کو خوشگوار قرار دیا ہے۔ یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب نیتن یاہو نے غزہ میں جنگ بندی کے مجوزہ امن منصوبوں کو مسترد کر دیا ہے۔
سابق امریکی صدر اور موجودہ صدارتی امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک حالیہ بیان میں اس بات کا اعادہ کیا ہے کہ اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کے ساتھ ان کے ذاتی اور سیاسی تعلقات بدستور مستحکم اور خوشگوار ہیں۔ یہ بیان ایک ایسے نازک موڑ پر سامنے آیا ہے جب بین الاقوامی سطح پر غزہ میں جاری کشیدگی اور امن کے قیام کے لیے کوششیں تعطل کا شکار ہیں۔ ڈونلڈ ٹرمپ کا یہ دعویٰ خاص طور پر اس تناظر میں اہمیت اختیار کر گیا ہے کہ نیتن یاہو نے حال ہی میں غزہ میں جنگ بندی اور امن بحالی کے لیے پیش کردہ مجوزہ منصوبوں کو مسترد کر دیا ہے، جس سے خطے میں صورتحال مزید پیچیدہ ہو گئی ہے۔
تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ ٹرمپ کا یہ موقف ان کی انتخابی حکمت عملی کا حصہ ہو سکتا ہے جس میں وہ اسرائیل کی حمایت کو یقینی بنانا چاہتے ہیں۔ اگرچہ نیتن یاہو کے فیصلوں پر عالمی سطح پر تنقید کی جا رہی ہے، لیکن ڈونلڈ ٹرمپ نے کھلے عام یہ ظاہر کیا ہے کہ وہ نیتن یاہو کی پالیسیوں اور ان کے ساتھ ذاتی ہم آہنگی کو برقرار رکھنے کے خواہاں ہیں۔ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ان کے دورِ صدارت میں اسرائیل کے ساتھ جو تعلقات قائم ہوئے تھے، وہ آج بھی اسی قدر مضبوط ہیں۔ ان کا یہ بیان اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ وہ مستقبل میں بھی اسرائیل کے ساتھ مضبوط سٹریٹجک شراکت داری جاری رکھنا چاہتے ہیں۔
دوسری جانب، نیتن یاہو کی جانب سے غزہ میں امن منصوبے کو مسترد کرنا بائیڈن انتظامیہ اور بین الاقوامی برادری کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے۔ غزہ میں انسانی بحران کے بڑھتے ہوئے اثرات کے درمیان، ٹرمپ کا یہ بیان اسرائیل کے اندرونی سیاسی حلقوں میں بھی بازگشت پیدا کر رہا ہے۔ سیاسی مبصرین کے مطابق ٹرمپ کا یہ دو ٹوک موقف اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ اگر وہ دوبارہ اقتدار میں آتے ہیں تو خطے میں امریکی خارجہ پالیسی کے خدوخال کیا ہوں گے۔ تاحال، نیتن یاہو کی جانب سے امن منصوبے کی مخالفت کے باوجود ٹرمپ کا حمایت برقرار رکھنا عالمی سیاست میں ایک اہم موڑ ثابت ہو سکتا ہے۔
آخر میں، یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ آیا ٹرمپ کا یہ بیان آنے والے دنوں میں اسرائیل اور امریکہ کے باہمی تعلقات پر کس قسم کے اثرات مرتب کرتا ہے۔ غزہ کی صورتحال مسلسل خراب ہوتی جا رہی ہے اور دنیا کی نظریں اب اس بات پر ہیں کہ آیا کوئی نیا سفارتی راستہ نکلے گا یا پھر نیتن یاہو اپنی سابقہ پالیسیوں پر ہی قائم رہیں گے۔ ٹرمپ کا یہ موقف واضح کرتا ہے کہ وہ آنے والے امریکی انتخابات میں اسرائیل کے معاملے کو کس طرح استعمال کر رہے ہیں اور اپنے ووٹرز کے سامنے اپنی ساکھ کو کس انداز میں پیش کر رہے ہیں۔