LIVE
Loading Breaking News...

اسکاٹ وینر کی جانب سے اے آئی مہم کا خاتمہ: نینسی پیلوسی کا ردعمل

News Image
کیلیفورنیا کے سینیٹر اسکاٹ وینر نے اپنی انتخابی مہم کے دوران مصنوعی ذہانت کے ذریعے بننے والے متنازع چیٹ بوٹ اور اشتہارات کو بند کر دیا ہے۔ یہ فیصلہ کانگریس وومن نینسی پیلوسی کی جانب سے شدید تنقید اور ناراضگی کے اظہار کے بعد سامنے آیا ہے۔
کیلیفورنیا کے ریاستی سینیٹر اسکاٹ وینر نے اپنی انتخابی مہم کے دوران شروع کی گئی ایک متنازع اے آئی (مصنوعی ذہانت) مہم کو فوری طور پر روکنے کا اعلان کیا ہے۔ اس مہم میں ایک چیٹ بوٹ اور کچھ اشتہارات استعمال کیے گئے تھے جن کا مقصد ان کی سیاسی حریف کونے چن کو ہدف بنانا تھا۔ تاہم، یہ قدم وینر کے لیے الٹا ثابت ہوا جب کانگریس وومن نینسی پیلوسی نے اس مہم پر سخت برہمی کا اظہار کیا اور اسے سیاسی اخلاقیات کے منافی قرار دیا۔ ذرائع کے مطابق نینسی پیلوسی نے اسکاٹ وینر کی مہم میں استعمال ہونے والے اے آئی ٹولز اور اشتہارات کو 'انتہائی غیر منصفانہ اور گمراہ کن' قرار دیتے ہوئے شدید احتجاج کیا۔ پیلوسی کا ماننا ہے کہ سیاسی مقاصد کے حصول کے لیے مصنوعی ذہانت کا غلط استعمال نہ صرف ووٹرز کو گمراہ کرتا ہے بلکہ انتخابی عمل کی ساکھ کو بھی نقصان پہنچاتا ہے۔ نینسی پیلوسی کی اس مداخلت کے بعد اسکاٹ وینر کی مہم نے فوری طور پر تمام متعلقہ بل بورڈز اور آن لائن اشتہارات کو ہٹانے کا فیصلہ کیا، جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ ڈیموکریٹک پارٹی کے اندر ان کے اثر و رسوخ کو نظر انداز کرنا مشکل ہے۔ اسکاٹ وینر کی ٹیم نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ انہوں نے یہ فیصلہ صورتحال کی نزاکت اور پارٹی کے سینئر رہنماؤں کے تحفظات کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا ہے۔ یہ واقعہ اس بڑھتی ہوئی تشویش کی عکاسی کرتا ہے کہ سیاسی میدان میں اے آئی کا استعمال کس طرح بے قابو ہوتا جا رہا ہے اور اسے ضابطہ اخلاق کے تحت لانے کی ضرورت ہے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ وینر کی جانب سے اس 'یو ٹرن' کا مقصد مستقبل میں پارٹی کی حمایت کو برقرار رکھنا اور مزید تنازعات سے بچنا ہے۔ اس واقعے نے کیلیفورنیا کی سیاست میں ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے کہ آیا انتخابی مہمات میں مصنوعی ذہانت کے استعمال کے لیے سخت قوانین کی ضرورت ہے۔ اسکاٹ وینر، جو خود ٹیکنالوجی کے حامی سمجھے جاتے ہیں، اب اپنی ہی مہم کے اس تنازع کے بعد ایک مشکل صورتحال کا سامنا کر رہے ہیں۔ پیلوسی کا یہ اقدام نہ صرف ان کی اپنی سیاسی طاقت کو ظاہر کرتا ہے بلکہ یہ بھی ثابت کرتا ہے کہ ڈیموکریٹک قیادت اپنی مہمات میں اے آئی کے غیر ذمہ دارانہ استعمال کو ہرگز برداشت کرنے کے لیے تیار نہیں ہے۔