World
یونیسکو عالمی کمیشن برائے اخلاقیات میں نائجیرین ماہر کی شمولیت
یونیسکو نے نائجیریا کے معروف اسکالر پروفیسر ایکیچی ایمگبیوجی اوگوامانم کو سائنسی علم اور ٹیکنالوجی کی اخلاقیات پر عالمی کمیشن کا رکن مقرر کیا ہے۔ یہ تقرری عالمی سطح پر سائنسی ترقی اور اخلاقی اصولوں کے درمیان توازن قائم کرنے کی کوششوں کا حصہ ہے۔
یونیسکو (UNESCO) نے نائجیریا کے ممتاز تعلیمی اور تحقیقی ماہر پروفیسر ایکیچی ایمگبیوجی اوگوامانم کو سائنسی علم اور ٹیکنالوجی کی اخلاقیات پر کام کرنے والے عالمی کمیشن (COMEST) کا رکن مقرر کیا ہے۔ یہ تقرری اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ نائجیریا اور براعظم افریقہ کے ماہرین عالمی سطح پر ٹیکنالوجی اور سائنسی پیشرفت کے اخلاقی پہلوؤں کو سمجھنے اور ان کے لیے پالیسیاں تشکیل دینے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ پروفیسر اوگوامانم اپنی وسیع تعلیمی خدمات اور بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ مہارت کی وجہ سے اس اہم عالمی فورم کا حصہ بنے ہیں۔
عالمی کمیشن برائے اخلاقیاتِ سائنسی علم اور ٹیکنالوجی (COMEST) ایک مشاورتی ادارہ ہے جو یونیسکو کے تحت کام کرتا ہے۔ اس کا بنیادی مقصد سائنسی اور تکنیکی ایجادات کے معاشرتی، ثقافتی اور اخلاقی مضمرات کا جائزہ لینا ہے۔ جیسے جیسے مصنوعی ذہانت، بائیو ٹیکنالوجی اور دیگر ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز انسانی زندگی کے ہر پہلو کو تبدیل کر رہی ہیں، اس کمیشن کی اہمیت میں مزید اضافہ ہوا ہے۔ پروفیسر اوگوامانم کے تجربات اس کمیشن کو خاص طور پر ترقی پذیر ممالک کے تناظر میں سائنسی اخلاقیات کو سمجھنے میں مدد فراہم کریں گے۔
پروفیسر ایکیچی ایمگبیوجی اوگوامانم نہ صرف نائجیریا بلکہ عالمی علمی حلقوں میں بھی ایک معتبر نام ہیں۔ ان کا تقرر اس بات کی علامت ہے کہ یونیسکو عالمی مسائل کے حل کے لیے متنوع نقطہ نظر کو اہمیت دیتا ہے۔ یہ تقرری نائجیریا کے تعلیمی حلقوں کے لیے ایک بڑا اعزاز ہے اور توقع کی جا رہی ہے کہ ان کی شمولیت سے عالمی سطح پر سائنس اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں اخلاقی ضابطہ کار کی پاسداری کو یقینی بنایا جا سکے گا۔ وہ اب اس کمیشن کے پلیٹ فارم سے دنیا بھر میں سائنس کے اخلاقی استعمال کے لیے سفارشات پیش کریں گے۔
اس پیشرفت پر نائجیریا کے علمی حلقوں میں خوشی کا اظہار کیا جا رہا ہے اور اسے ملک کی علمی صلاحیتوں کا عالمی اعتراف قرار دیا گیا ہے۔ پروفیسر اوگوامانم اپنی نئی ذمہ داریوں کا آغاز جلد کریں گے اور توقع ہے کہ ان کی شراکت داری سے دنیا کو درپیش سائنسی اخلاقیات کے چیلنجز پر قابو پانے میں مدد ملے گی۔ یونیسکو کی یہ کاوشیں انسانیت کو ٹیکنالوجی کے منفی اثرات سے بچانے اور اسے صرف فلاح و بہبود کے لیے استعمال کرنے کے عزم کا اعادہ کرتی ہیں۔