LIVE
Loading Breaking News...

عالمی مارکیٹ: تانبے کی قیمتوں میں استحکام، سرمایہ کاروں کا ردعمل

News Image
عالمی منڈی میں تانبے کی قیمتیں 14,000 ڈالر فی ٹن کی سطح پر برقرار ہیں۔ امریکی شرح سود میں کمی کے اشاروں نے دھاتوں کی عالمی مانگ میں اضافہ کر دیا ہے۔
عالمی مالیاتی منڈیوں میں تانبے کی قیمتوں نے 14,000 ڈالر فی ٹن کی اہم سطح پر خود کو برقرار رکھا ہے۔ یہ استحکام بنیادی طور پر امریکی فیڈرل ریزرو کی جانب سے شرح سود میں متوقع کمی کے اشاروں کے بعد دیکھا گیا ہے۔ سرمایہ کاروں کا ماننا ہے کہ اگر امریکی مرکزی بینک شرح سود میں کمی کرتا ہے تو اس سے ڈالر کی قدر میں گراوٹ آئے گی، جس کے نتیجے میں تانبے جیسی دھاتیں، جو ڈالر میں خریدی جاتی ہیں، عالمی خریداروں کے لیے سستی ہو جائیں گی اور ان کی طلب میں مزید اضافہ ہوگا۔ ماہرینِ معاشیات کے مطابق، تانبے کی مانگ میں یہ بہتری صرف شرح سود تک محدود نہیں بلکہ عالمی سطح پر صنعتی سرگرمیوں میں بہتری کی علامت بھی ہے۔ تانبا صنعتی ترقی کے لیے ایک بنیادی دھات سمجھی جاتی ہے، خاص طور پر الیکٹرک گاڑیوں، رینیوایبل انرجی اور انفراسٹرکچر کے شعبوں میں اس کا استعمال بے حد بڑھ گیا ہے۔ جب بھی امریکی معیشت کے حوالے سے نرم پالیسی کے اشارے ملتے ہیں تو کموڈٹی مارکیٹ میں دھاتوں کی قیمتوں میں اضافہ دیکھنے میں آتا ہے، جس کا فائدہ تانبے کے پروڈیوسرز اور سرمایہ کاروں کو براہِ راست ملتا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ آنے والے مہینوں میں تانبے کی قیمتوں کا انحصار چین کی صنعتی ترقی اور امریکی لیبر مارکیٹ کے اعداد و شمار پر ہوگا۔ اگر چین کی جانب سے معاشی محرکات کے مزید اعلانات سامنے آتے ہیں تو تانبے کی قیمتیں 14,000 ڈالر سے بھی اوپر جا سکتی ہیں۔ فی الحال مارکیٹ کا مجموعی رجحان مثبت ہے اور سرمایہ کار محتاط انداز میں دھاتوں کی تجارت کر رہے ہیں۔ تانبے کی یہ حالیہ کارکردگی عالمی دھاتی منڈیوں کے لیے ایک حوصلہ افزا پیغام ہے جو طویل عرصے سے سست روی کا شکار تھیں۔ مستقبل کے حوالے سے مارکیٹ ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ اگرچہ قیمتیں مستحکم ہیں، تاہم افراطِ زر اور جغرافیائی سیاسی کشیدگی اب بھی ایک چیلنج بنی ہوئی ہے۔ ان تمام عوامل کے باوجود، تانبے کی طلب میں مسلسل اضافہ جاری رہے گا کیونکہ دنیا بھر میں گرین انرجی کی جانب منتقلی کے لیے اس دھات کی ضرورت ناگزیر ہے۔ سرمایہ کاروں کی نظریں اب امریکی مرکزی بینک کے آئندہ اجلاسوں پر مرکوز ہیں تاکہ آئندہ کی حکمت عملی کا تعین کیا جا سکے۔