LIVE
Loading Breaking News...

برطانیہ میں ویپ اور بیٹنگ شاپس پر کریک ڈاؤن، کونسلوں کو نئے اختیارات ملیں گے

News Image
برطانیہ کے وزیراعظم نے اعلان کیا ہے کہ ٹاؤن سینٹرز کی بحالی کے لیے مقامی کونسلوں کو ویپ اور سٹہ بازی کی دکانوں کے قیام کو روکنے کے لیے مزید اختیارات دیے جائیں گے۔ اس اقدام کا مقصد شہروں کے مراکز کو زوال سے بچانا اور ان کی تجارتی ساکھ کو بہتر بنانا ہے۔
برطانیہ میں مقامی ٹاؤن سینٹرز کی بگڑتی ہوئی صورتحال اور کاروباری مراکز کے زوال کو روکنے کے لیے حکومت نے ایک اہم پالیسی فیصلے کا اعلان کیا ہے۔ وزیراعظم نے واضح کیا ہے کہ اب مقامی کونسلوں کو یہ اختیار حاصل ہوگا کہ وہ اپنے علاقوں میں ویپ (vape) کی دکانوں اور سٹہ بازی (betting shops) کے مراکز کے قیام کو محدود یا مکمل طور پر روک سکیں۔ اس حکومتی اقدام کا بنیادی مقصد شہروں کے مرکزوں کو دوبارہ رونق بخشنا اور انہیں غیر ضروری کاروباری سرگرمیوں کے اثرات سے محفوظ رکھنا ہے۔ حکومتی عہدیداران کے مطابق گزشتہ کئی دہائیوں سے ٹاؤن سینٹرز مسلسل زوال کا شکار رہے ہیں، جس کے نتیجے میں روایتی کاروباری مراکز اپنی اہمیت کھو چکے ہیں۔ وزیراعظم کا کہنا ہے کہ ان علاقوں کو 'کھوکھلا' کر دیا گیا ہے اور اب وقت آگیا ہے کہ مقامی حکام کو فیصلہ سازی کے عمل میں زیادہ خودمختاری دی جائے تاکہ وہ اپنے شہریوں کی فلاح و بہبود کے مطابق تجارتی شعبوں کا تعین کر سکیں۔ ویپ شاپس اور بیٹنگ شاپس کے پھیلاؤ کو سماجی اور صحت کے نقطہ نظر سے بھی تنقید کا نشانہ بنایا جاتا رہا ہے۔ طبی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ نوجوان نسل میں ویپنگ کا بڑھتا ہوا رجحان تشویشناک ہے، جبکہ بیٹنگ شاپس سے منسلک معاشی مسائل بھی مقامی برادریوں کے لیے ایک بوجھ بنے ہوئے ہیں۔ نئے اختیارات کے بعد کونسلیں اپنے ضوابط کے تحت ایسی دکانوں کے لیے لائسنس جاری کرنے سے انکار کر سکیں گی جو عوامی مفاد کے خلاف ہوں۔ مزید برآں، حکومت ٹاؤن سینٹرز کی بحالی کے لیے ایک جامع حکمت عملی پر کام کر رہی ہے، جس میں مقامی کاروباروں کو فروغ دینے اور کمیونٹی کے لیے سہولیات کو بہتر بنانے کے لیے خصوصی گرانٹس اور مراعات بھی شامل ہوں گی۔ اس پالیسی کا خیرمقدم مقامی تنظیموں اور تاجر برادری کی جانب سے بھی کیا جا رہا ہے، جن کا ماننا ہے کہ ٹاؤن سینٹرز کی خوبصورتی اور فعالیت کو بحال کرنے کے لیے سخت ریگولیٹری اقدامات ناگزیر ہیں۔ یہ فیصلہ برطانیہ بھر میں شہری منصوبہ بندی کے ایک نئے دور کا آغاز ثابت ہو سکتا ہے، جہاں تجارتی مراکز میں غیر ضروری اور نقصان دہ کاروباروں کی بجائے عوامی فلاحی خدمات کو ترجیح دی جائے گی۔