Technology
برطانوی نیوی کے ڈرونز میں چینی پرزوں کی تنصیب پر تحقیقات
برطانوی بحریہ کے نئے ڈرونز میں چینی ساختہ پرزے پائے گئے جن سے ڈیٹا چین کے آئی پی ایڈریس کو منتقل کیا جا رہا تھا۔ برطانوی وزارت دفاع کا کہنا ہے کہ ابتدائی تحقیقات کے دوران کسی قسم کے ڈیٹا لیک ہونے کے شواہد نہیں ملے ہیں۔
برطانیہ کی رائل نیوی کے زیر استعمال نئے سمندری ڈرونز میں چینی ساختہ پرزوں کی موجودگی کا انکشاف ہوا ہے جس کے بعد حکومتی حلقوں اور دفاعی ماہرین میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔ ابتدائی رپورٹس کے مطابق یہ پرزے ڈرونز کے مواصلاتی نظام کا حصہ تھے اور ان کے ذریعے ڈیٹا ایک چینی آئی پی ایڈریس پر منتقل کیا جا رہا تھا۔ اس حساس معاملے کے منظر عام پر آنے کے بعد برطانیہ کی وزارت دفاع نے فوری طور پر تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے تاکہ یہ تعین کیا جا سکے کہ آیا اس عمل سے قومی سلامتی کو کوئی خطرہ لاحق ہوا ہے یا نہیں۔
وزارت دفاع کے ترجمان کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ حکام نے صورتحال کا تفصیلی جائزہ لیا ہے اور اب تک کی تحقیقات میں ڈیٹا لیک یا معلومات کے غیر قانونی انخلا کا کوئی ثبوت نہیں ملا ہے۔ حکام کا موقف ہے کہ مذکورہ پرزے تکنیکی نوعیت کے تھے اور ان کا تعلق ڈرون کے بنیادی سیکیورٹی نظام سے نہیں تھا، تاہم احتیاطی تدابیر کے طور پر ان تمام ڈرونز کی جانچ پڑتال دوبارہ کی جا رہی ہے تاکہ مستقبل میں کسی بھی قسم کے خفیہ ڈیٹا کے افشاء کے امکان کو مکمل طور پر ختم کیا جا سکے۔
دوسری جانب ٹیکنالوجی ماہرین نے اس واقعے کو عالمی سپلائی چین میں موجود سیکیورٹی خامیوں کا نتیجہ قرار دیا ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ دفاعی آلات کی تیاری میں استعمال ہونے والے پرزوں کی جانچ کے عمل کو مزید سخت کرنے کی ضرورت ہے تاکہ کسی بھی غیر ملکی مداخلت یا جاسوسی کے امکانات کو روکا جا سکے۔ برطانیہ کی جانب سے ان ڈرونز میں چینی پرزوں کا پایا جانا اس عالمی بحث کا حصہ ہے جس میں اکثر مغربی ممالک چینی ٹیکنالوجی پر انحصار کم کرنے پر زور دے رہے ہیں۔
برطانوی بحریہ نے اس معاملے پر مکمل شفافیت برقرار رکھنے کا وعدہ کیا ہے اور کہا ہے کہ آئندہ دفاعی خریداریوں میں سپلائی چین کی نگرانی کے نظام کو مزید جدید بنایا جائے گا۔ فی الحال، حکومت نے اس بات پر اصرار کیا ہے کہ برطانوی نیوی کے آپریشنز مکمل طور پر محفوظ ہیں اور کسی بھی قسم کی غیر مجاز رسائی کو روکنے کے لیے انٹیلی جنس ادارے چوکس ہیں۔ اس واقعے کے بعد برطانیہ سمیت دیگر مغربی ممالک میں دفاعی سازوسامان کی تیاری کے عمل میں سیکیورٹی پروٹوکولز پر نظر ثانی کیے جانے کا قوی امکان ہے۔