World
یورپ میں شدید ہیٹ ویو، درجہ حرارت ریکارڈ سطح پر پہنچنے کا خدشہ
برطانیہ اور فرانس میں درجہ حرارت کے وسط تیس کی دہائی تک پہنچنے کی پیش گوئی کے بعد حکام نے شدید گرمی کی وارننگ جاری کر دی ہے۔ موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث یورپ کو رواں موسم گرما میں ایک بار پھر غیر معمولی گرمی کا سامنا ہے۔
یورپ بھر میں ایک بار پھر شدید گرمی کی لہر نے دستک دے دی ہے جس کے باعث حکام نے ہائی الرٹ جاری کر دیا ہے۔ خاص طور پر برطانیہ اور فرانس کے کئی خطوں میں درجہ حرارت کے وسط تیس ڈگری سیلسیس تک پہنچنے کی پیش گوئی کی گئی ہے، جو کہ معمول سے کافی زیادہ ہے۔ موسمیاتی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ گرمی کی لہر گزشتہ ریکارڈ توڑ گرمی کی یاد تازہ کر رہی ہے، جس کے پیش نظر شہریوں کو غیر ضروری طور پر گھر سے باہر نہ نکلنے اور پانی کا زیادہ استعمال کرنے کی ہدایات دی گئی ہیں۔
برطانوی محکمہ موسمیات نے خبردار کیا ہے کہ آنے والے دنوں میں درجہ حرارت میں نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے، جس کے نتیجے میں صحت کے مسائل پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔ خاص طور پر بوڑھے افراد، بچوں اور دائمی بیماریوں میں مبتلا مریضوں کے لیے شدید گرمی جان لیوا ثابت ہو سکتی ہے۔ مقامی انتظامیہ نے ہسپتالوں کو بھی الرٹ کر دیا ہے تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے تیار رہا جا سکے۔ فرانس میں بھی اسی طرح کی صورتحال دیکھی جا رہی ہے جہاں حکام نے عوام کو شدید گرمی سے بچنے کے لیے عملی اقدامات کرنے کا مشورہ دیا ہے۔
ماہرینِ ماحولیات کا ماننا ہے کہ یورپ میں بار بار آنے والی یہ شدید گرمی کی لہریں موسمیاتی تبدیلیوں کا براہ راست نتیجہ ہیں۔ دنیا بھر میں بڑھتے ہوئے درجہ حرارت کے اثرات اب یورپی براعظم پر بھی واضح طور پر دیکھے جا سکتے ہیں۔ گزشتہ چند برسوں میں گرمیوں کا دورانیہ طویل اور شدت میں اضافہ ہوا ہے جس سے نہ صرف انسانی زندگی بلکہ زراعت اور توانائی کے شعبے بھی متاثر ہو رہے ہیں۔ حکومتیں اب اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے طویل مدتی حکمت عملیوں پر غور کر رہی ہیں تاکہ شہریوں کو شدید موسم کے اثرات سے محفوظ رکھا جا سکے۔
اس صورتحال کے پیش نظر یورپی یونین کے مختلف ممالک نے احتیاطی تدابیر کو مزید سخت کر دیا ہے۔ عوامی مقامات پر ٹھنڈک فراہم کرنے والے مراکز کے قیام کے ساتھ ساتھ حکام نے ملازمین کو بھی دوپہر کے وقت کام کے دوران احتیاط برتنے کی ہدایت کی ہے۔ یہ صورتحال اس بات کی متقاضی ہے کہ عالمی سطح پر کاربن کے اخراج کو کم کرنے کے لیے ٹھوس اقدامات کیے جائیں تاکہ مستقبل میں اس طرح کی شدید موسمی آفات کی شدت کو کم کیا جا سکے۔ عوام سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ حکومتی ہدایات پر عمل کریں اور موسم کی تازہ ترین صورتحال پر نظر رکھیں۔