LIVE
Loading Breaking News...

انڈونیشیا میں جنگلات کی آگ: صورتحال تشویشناک

News Image
انڈونیشیا کے مختلف علاقوں میں لگنے والی جنگلات کی ہولناک آگ کو بجھانے کے لیے ہزاروں اہلکار اور ہیلی کاپٹر مصروف عمل ہیں۔ حکام کا ماننا ہے کہ اس بار آگ کی شدت میں اضافہ موسمیاتی تبدیلی ایل نینو کے سبب ہوا ہے۔
انڈونیشیا کے وسیع و عریض جنگلات اس وقت شدید آگ کی لپیٹ میں ہیں، جس کے نتیجے میں نہ صرف ماحولیاتی نظام کو خطرات لاحق ہو گئے ہیں بلکہ مقامی آبادی کے لیے بھی مشکلات بڑھ گئی ہیں۔ حکومتی اعداد و شمار کے مطابق، ہزاروں کی تعداد میں فائر فائٹرز اور امدادی کارکنان دن رات آگ بجھانے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔ اس مشن میں درجنوں ہیلی کاپٹرز بھی حصہ لے رہے ہیں جو ہوا سے پانی اور کیمیکلز کا چھڑکاؤ کر کے آگ کے پھیلاؤ کو روکنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ جنگلات میں لگی یہ آگ نہ صرف قیمتی درختوں کو خاکستر کر رہی ہے بلکہ بڑے پیمانے پر دھواں پیدا ہونے سے فضائی معیار بھی انتہائی خراب ہو چکا ہے۔ حکام اور موسمیاتی ماہرین نے اس تباہی کی بنیادی وجہ 'ایل نینو' (El Nino) کے موسمیاتی رجحان کو قرار دیا ہے۔ ایل نینو کی وجہ سے انڈونیشیا کے کئی حصوں میں معمول سے زیادہ خشک سالی دیکھی جا رہی ہے، جس کے باعث جھاڑیوں اور سوکھے درختوں میں آگ لگنے کے واقعات میں خطرناک حد تک اضافہ ہوا ہے۔ خشک موسم اور تیز ہواؤں نے آگ کو مزید بھڑکا دیا ہے، جس کی وجہ سے فائر فائٹرز کو آگ بجھانے کے لیے دشوار گزار پہاڑی اور جنگلی علاقوں میں سخت مشکلات کا سامنا ہے۔ حکومت نے ہنگامی بنیادوں پر مزید وسائل کی فراہمی کا وعدہ کیا ہے تاکہ اس قدرتی آفت پر قابو پایا جا سکے۔ ماہرینِ ماحولیات نے خبردار کیا ہے کہ اگر آگ کا یہ سلسلہ اسی طرح جاری رہا تو انڈونیشیا کے جنگلات کی حیاتیاتی تنوع کو ناقابل تلافی نقصان پہنچ سکتا ہے۔ آگ سے پیدا ہونے والا دھواں پڑوسی ممالک کے لیے بھی خطرہ بن سکتا ہے، جس کی وجہ سے خطے میں تشویش پائی جا رہی ہے۔ حکومتِ انڈونیشیا نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ خشک موسم کے دوران جنگلات کے قریب احتیاط برتیں اور ایسی کوئی بھی سرگرمی نہ کریں جس سے آگ لگنے کا خدشہ ہو۔ ریسکیو آپریشنز کے لیے مقامی پولیس اور فوج کو بھی الرٹ کر دیا گیا ہے تاکہ متاثرہ علاقوں سے لوگوں کو بحفاظت نکال کر محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا سکے۔