Business
اسٹاک مارکیٹ لائیو اپ ڈیٹس: امریکا ایران کشیدگی اور معاشی اثرات
امریکا اور ایران کے درمیان آبنائے ہرمز کے معاملے پر کسی معاہدے کے امکانات معدوم ہونے کے بعد ایس اینڈ پی 500 کے فیوچرز میں معمولی کمی دیکھی گئی۔ سرمایہ کار مشرق وسطیٰ کی کشیدہ صورتحال اور اس کے عالمی معیشت پر پڑنے والے اثرات کا بغور جائزہ لے رہے ہیں۔
اتوار کی شب امریکی اسٹاک مارکیٹ کے اشاریوں میں اس وقت معمولی کمی دیکھنے میں آئی جب سرمایہ کاروں کی جانب سے یہ خدشات ظاہر کیے گئے کہ امریکا اور ایران کے درمیان آبنائے ہرمز کو کھولنے کے حوالے سے جلد کوئی معاہدہ طے پانا مشکل ہے۔ ایس اینڈ پی 500 سے جڑے فیوچرز میں تقریباً صفر اعشاریہ دو فیصد کی گراوٹ ریکارڈ کی گئی۔ اس صورتحال نے عالمی منڈیوں میں ایک بار پھر بے یقینی کی فضا پیدا کر دی ہے، کیونکہ یہ آبی گزرگاہ عالمی تیل کی ترسیل کے لیے انتہائی اہمیت کی حامل ہے۔
ماہرین اقتصادیات کا کہنا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور جغرافیائی سیاسی تنازعات براہ راست عالمی مالیاتی منڈیوں کو متاثر کرتے ہیں۔ آبنائے ہرمز کے راستے تیل کی سپلائی میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ نہ صرف توانائی کی قیمتوں میں اضافے کا سبب بن سکتی ہے بلکہ اس سے افراط زر کے دباؤ میں بھی اضافہ ہو سکتا ہے جو کہ عالمی معاشی بحالی کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے۔
سرمایہ کار اس وقت انتہائی احتیاط سے کام لے رہے ہیں اور دونوں ممالک کے درمیان سفارتی کوششوں یا ممکنہ پیش رفت پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔ تجارتی حلقوں میں یہ بحث جاری ہے کہ اگر صورتحال مزید کشیدہ ہوتی ہے تو اسٹاک مارکیٹس میں مندی کا رجحان مزید گہرا ہو سکتا ہے، جس سے مختلف سیکٹرز بالخصوص توانائی اور رس و رسائل کی صنعتیں متاثر ہوں گی۔