LIVE
Loading Breaking News...

نیوزی لینڈ کے اسکولوں کے لیے شمسی توانائی کا نیا منصوبہ

News Image
نیوزی لینڈ حکومت نے اسکولوں میں شمسی توانائی کے نظام کی تنصیب کے لیے 30 ملین ڈالر کے منصوبے کا اعلان کیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد تعلیمی اداروں کو خود کفیل بنانا اور ماحول دوست توانائی کے استعمال کو فروغ دینا ہے۔
نیوزی لینڈ کی حکومت نے ملک بھر کے تعلیمی اداروں کو شمسی توانائی پر منتقل کرنے کے ایک اہم پائلٹ پروگرام کا آغاز کر دیا ہے۔ اس منصوبے پر تقریباً 30 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری کی جائے گی، جس کا بنیادی مقصد اسکولوں کو بجلی کے بلوں کے بوجھ سے آزاد کرنا اور ماحول دوست توانائی کے استعمال کو یقینی بنانا ہے۔ حکومتی حکام کے مطابق یہ اقدام نہ صرف اسکولوں کے لیے ایک عملی سرمایہ کاری ہے بلکہ یہ ملک کے روشن مستقبل کی جانب بھی ایک اہم قدم ہے۔ اس پائلٹ پروگرام کے تحت اگلے تین برسوں کے دوران سینکڑوں اسکولوں کی چھتوں پر جدید سولر پینلز نصب کیے جائیں گے۔ منصوبے کی تفصیلات بتاتے ہوئے حکومتی ترجمان نے کہا کہ اس پروگرام کے تحت تقریباً 150 اسکولوں کو خصوصی ترجیح دی جائے گی، جہاں سولر پینلز کی تنصیب کے علاوہ توانائی کی بچت کے دیگر آلات بھی فراہم کیے جائیں گے۔ ان اقدامات کا مقصد تعلیمی اداروں میں بجلی کی کھپت کو کم کرنا اور گرین انرجی کے استعمال کو ایک مثال کے طور پر پیش کرنا ہے۔ اسکولوں کو شمسی توانائی پر منتقل کرنے سے نہ صرف سرکاری خزانے پر بوجھ کم ہوگا بلکہ طلباء کو بھی ماحولیاتی تحفظ اور قابل تجدید توانائی کے فوائد کے بارے میں عملی سیکھنے کا موقع ملے گا۔ اس منصوبے کو نیوزی لینڈ کے تعلیمی نظام کے لیے ایک اہم سنگ میل قرار دیا جا رہا ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اسکولوں میں شمسی توانائی کی تنصیب سے نہ صرف کاربن کے اخراج میں کمی آئے گی بلکہ یہ تعلیمی ادارے دیگر عوامی عمارتوں کے لیے بھی ایک ماڈل بن سکیں گے۔ حکومت اس بات پر پرعزم ہے کہ آنے والے برسوں میں اس پروگرام کو مزید وسیع کیا جائے گا تاکہ ملک کے تمام تعلیمی ادارے توانائی کے معاملے میں خود کفیل ہو سکیں۔ یہ سرمایہ کاری ملکی تعلیمی انفراسٹرکچر کو جدید خطوط پر استوار کرنے کی جانب ایک مربوط حکمت عملی کا حصہ ہے۔