Technology
سیگ وے کی ناکامی: ایک ایسی ایجاد جس نے ٹیکنالوجی دنیا کو حیران کر دیا
معروف وینچر کیپیٹلسٹ جان ڈور نے کبھی سیگ وے کو انٹرنیٹ سے بھی بڑی ایجاد قرار دیا تھا جو وقت کے ساتھ غلط ثابت ہوا۔ یہ ٹیکنالوجی اپنی تمام تر تشہیر کے باوجود عالمی نقل و حمل کے نظام میں انقلاب برپا کرنے میں ناکام رہی۔
ٹیکنالوجی کی تاریخ ایسی بہت سی ایجادات سے بھری پڑی ہے جنہیں اپنے دور میں ایک انقلاب قرار دیا گیا مگر وقت کے ساتھ وہ صرف ایک تجسس بن کر رہ گئیں۔ ڈین کیمین کی ایجاد کردہ 'سیگ وے' (Segway) ان میں سب سے نمایاں ہے۔ جب اس کی رونمائی ہوئی تو معروف وینچر کیپیٹلسٹ جان ڈور نے یہ دعویٰ کیا تھا کہ یہ ایجاد انٹرنیٹ سے بھی بڑی ثابت ہوگی اور دنیا بھر میں نقل و حمل کا نظام بدل دے گی۔ تاہم یہ دعویٰ ٹیکنالوجی کی دنیا کی سب سے بڑی غلط فہمیوں میں سے ایک ثابت ہوا اور سیگ وے کبھی بھی عوامی سطح پر ٹرانسپورٹ کا متبادل نہیں بن سکا۔
سیگ وے کی ناکامی کی وجوہات پر غور کریں تو اس کی قیمت، استعمال میں دشواری اور قانونی رکاوٹیں سب سے اہم نظر آتی ہیں۔ اپنی لانچ کے وقت سیگ وے کی قیمت ایک عام انسان کی قوت خرید سے باہر تھی، جس کی وجہ سے یہ صرف بڑے اداروں، سیکیورٹی گارڈز اور کچھ خاص سیاحتی مقامات تک محدود ہو کر رہ گیا۔ اس کے برعکس، انٹرنیٹ نے اپنے آغاز کے بعد سے انسانی زندگی کے ہر پہلو کو متاثر کیا اور دنیا کو گلوبل ویلیج میں بدل دیا۔ سیگ وے اس طرح کا کوئی بھی بنیادی تغیر لانے میں ناکام رہا کیونکہ یہ نہ تو تیز رفتار تھا اور نہ ہی اسے ہر جگہ چلانے کی قانونی اجازت حاصل تھی۔
ماہرین کے مطابق سیگ وے کا کیس ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ کسی بھی ٹیکنالوجی کی کامیابی صرف اس کے 'انوکھی' ہونے پر منحصر نہیں ہوتی، بلکہ اس کی افادیت، قیمت اور سماجی قبولیت بھی کلیدی کردار ادا کرتی ہے۔ سیگ وے کی مارکیٹنگ میں جس طرح کے بلند بانگ دعوے کیے گئے تھے، انہوں نے عوام میں توقعات کو بہت زیادہ بڑھا دیا تھا، جس کے نتیجے میں جب یہ ایجاد عام زندگی میں کوئی نمایاں تبدیلی نہ لا سکی تو اسے ایک عبرت ناک شکست سمجھا گیا۔
آج جب ہم مائیکرو موبلٹی جیسے الیکٹرک سکوٹرز اور دیگر جدید ذرائع کو دیکھتے ہیں تو ہمیں سیگ وے کی ابتدائی کوششوں کا احساس تو ہوتا ہے، مگر یہ کہنا بجا ہوگا کہ سیگ وے صرف ایک ایسی ایجاد تھی جس نے اپنی اہمیت کو مبالغہ آرائی کے ساتھ پیش کیا۔ تاریخ ثابت کرتی ہے کہ صرف سرمایہ کاری یا بڑے ناموں کی حمایت کسی بھی نئی ایجاد کو انٹرنیٹ جیسا مقام نہیں دلا سکتی، بلکہ اسے انسانی مسائل کا حقیقی حل ہونا پڑتا ہے۔ سیگ وے کا واقعہ سرمایہ کاروں کے لیے آج بھی ایک سبق ہے کہ ٹیکنالوجی کے مستقبل کے بارے میں پیش گوئی کرتے وقت زمینی حقائق کو نظر انداز کرنا کتنا مہنگا پڑ سکتا ہے۔