World
روس یوکرین جنگ: ہتھیار بنانے والے انجینئرز پر قاتلانہ حملوں کا انکشاف
روس یوکرین تنازعہ اب میدانِ جنگ سے نکل کر ہتھیار بنانے والے اہم عہدیداروں اور انجینئرز کے خلاف خفیہ کارروائیوں تک پھیل گیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ جدید ڈرون ٹیکنالوجی تیار کرنے والے کلیدی افراد کو نشانہ بنانا ایک خطرناک پیش رفت ہے۔
روس اور یوکرین کے درمیان جاری طویل جنگ اب میدانِ جنگ کی سرحدوں سے نکل کر ایک تاریک اور خطرناک مرحلے میں داخل ہو گئی ہے، جہاں اب ہتھیار بنانے والے اہم ماہرین، انجینئرز اور دفاعی شعبے کے اعلیٰ عہدیداروں کو خفیہ طور پر نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ حالیہ رپورٹس کے مطابق دونوں ممالک کے انٹیلی جنس نیٹ ورکس اب ایسے کلیدی افراد کی تلاش میں ہیں جو جدید ڈرون ٹیکنالوجی اور مہلک ہتھیاروں کی تیاری میں مصروف عمل ہیں۔ یہ پیش رفت اس بات کی غمازی کرتی ہے کہ جنگ اب صرف فوجی مورچوں تک محدود نہیں رہی بلکہ تکنیکی برتری حاصل کرنے والے دماغوں کو ختم کرنے کی ایک نئی جنگ شروع ہو چکی ہے۔
اس نئے محاذ پر ہونے والے واقعات میں کئی اہم انجینئرز اور دفاعی کمپنیوں کے سربراہان کو نشانہ بنائے جانے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ ماہرینِ دفاع کا کہنا ہے کہ ڈرون ٹیکنالوجی اس جنگ میں فیصلہ کن کردار ادا کر رہی ہے، اسی وجہ سے جو بھی فریق ڈرون سازی میں مہارت رکھتا ہے، اسے دوسرے فریق کے لیے بڑا خطرہ تصور کیا جاتا ہے۔ مبینہ طور پر خفیہ ایجنٹ ان ماہرین کی نقل و حرکت پر نظر رکھے ہوئے ہیں اور انہیں یا تو اغوا کرنے یا ان کی زندگی ختم کرنے کے منصوبے بنائے جا رہے ہیں۔ اس قسم کی کارروائیاں بین الاقوامی قوانین کے منافی ہیں اور عالمی سطح پر سیکیورٹی کے نئے خدشات کو جنم دے رہی ہیں۔
ماسکو اور کیف دونوں جانب سے ایک دوسرے پر ان خفیہ حملوں کا الزام عائد کیا جا رہا ہے۔ روس کا دعویٰ ہے کہ یوکرین کی ایجنسیاں روسی دفاعی تنصیبات میں کام کرنے والے سائنسدانوں کو نشانہ بنا رہی ہیں، جبکہ یوکرین کا موقف ہے کہ اسے روس کے ان نیٹ ورکس کا سامنا ہے جو اس کے تکنیکی ماہرین کو خوفزدہ کرنے کے لیے کام کر رہے ہیں۔ یہ صورتحال دونوں ممالک کے دفاعی شعبے کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکی ہے کیونکہ اپنے کلیدی اثاثوں اور ماہرین کو بچانا اب ان کی اولین ترجیح بن گیا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اگر ہتھیار بنانے والے ماہرین کے خلاف یہ قاتلانہ حملوں کا سلسلہ نہ روکا گیا تو اس کے سنگین نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔ یہ جنگ کا ایک ایسا رخ ہے جو خاموشی سے جاری ہے لیکن اس کے اثرات براہ راست لڑائی کے نتائج پر مرتب ہو رہے ہیں۔ فی الحال، دونوں ممالک اپنے اہم دفاعی سٹاف کی سیکیورٹی کو مزید سخت کر رہے ہیں، تاہم اس غیر اعلانیہ جنگ نے بین الاقوامی برادری کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے کہ کیا اب یہ جنگ صرف سپاہیوں تک محدود رہے گی یا یہ دہشت گردی اور ٹارگٹ کلنگ کے ایک نہ ختم ہونے والے سلسلے میں بدل جائے گی۔