Business
پاکستان میں ٹیکس نفاذ سخت، وزیر اعظم کی ایف بی آر کو ہدایات
وزیر اعظم شہباز شریف نے فیڈرل بورڈ آف ریوینو (ایف بی آر) کو محصولات کے مقررہ اہداف کے حصول کے لیے ٹیکس نفاذ مزید سخت کرنے کی ہدایت کی ہے۔ انہوں نے اسمگلنگ، ٹیکس چوری اور غیر قانونی کاروبار کے خلاف کارروائیاں جاری رکھنے پر زور دیا ہے۔
وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے ملک میں محصولات کے مقررہ اہداف کو ہر صورت پورا کرنے کے لیے ٹیکس نفاذ کی کارروائیوں کو مزید تیز اور سخت کرنے کی واضح ہدایت جاری کی ہے۔ یہ احکامات وفاقی دارالحکومت میں فیڈرل بورڈ آف ریوینو (ایف بی آر) کے امور سے متعلق منعقدہ ایک اعلیٰ سطح کے جائزہ اجلاس کے دوران دیے گئے۔ وزیراعظم نے اس بات پر زور دیا کہ ملکی معیشت کو مستحکم کرنے اور مالیاتی خسارے کو کم کرنے کے لیے ٹیکس نیٹ کو وسیع کرنا اور محصولات کی وصولی میں بہت لانا ناگزیر ہے۔اجلاس کے دوران وزیراعظم نے ایف بی آر کے حکام کو واضح کیا کہ ملک سے اسمگلنگ کے خاتمے، ٹیکس چوری کی روک تھام اور تمام غیر قانونی کاروباری سرگرمیوں کے خلاف بلا امتیاز کارروائیاں جاری رکھی جائیں۔ انہوں نے کہا کہ قومی وسائل کا ضیاع روکنے اور ملکی معیشت کو اپنے پاؤں پر کھڑا کرنے کے لیے قانون نافذ کرنے والے اداروں اور ٹیکس حکام کو باہمی تعاون کو مزید مؤثر بنانا ہوگا۔ حکومت قومی معیشت کی ترقی کے لیے تمام ممکنہ اقدامات اٹھا رہی ہے اور اس حوالے سے کسی قسم کی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی۔دوسری جانب، کراچی ٹیکس بار ایسوسی ایشن (کے ٹی بی اے) سمیت کاروباری برادری کے مختلف طبقات نے ایف بی آر چیئرمین سے مطالبہ کیا ہے کہ ٹیکس دہندگان کے لیے ریفنڈز کے اجرا کے عمل کو تیز اور آسان بنایا جائے۔ اس ضمن میں کاروباری چیمبرز اور ایف بی آر کے مابین مشترکہ کمیٹیاں تشکیل دینے پر بھی اتفاق طے پایا ہے تاکہ تاجروں کے مسائل اور شکایات کا بروقت اور فوری ازالہ کیا جا سکے اور ٹیکس کے نظام میں بہتری لائی جا سکے۔