LIVE
Loading Breaking News...

حوثی باغیوں کا المخا بندرگاہ پر حملہ، یمن میں کشیدگی بڑھ گئی

News Image
یمن کے بحیرہ احمر پر واقع اہم بندرگاہ المخا پر ایران کے حامی حوثی باغیوں کے حملے میں متعدد افراد جاں بحق اور زخمی ہو گئے۔ اس حملے سے بین الاقوامی بحری گزرگاہوں اور خطے کی سلامتی کو شدید خطرات لاحق ہو گئے ہیں۔
یمن کے بحیرہ احمر کے ساحل پر واقع تاریخی اور تجارتی لحاظ سے انتہائی اہم بندرگاہ المخا پر ایران کے حمایت یافتہ حوثی باغیوں نے ایک بار پھر شدید حملہ کر دیا ہے۔ مقامی حکومتی اور عسکری ذرائع کے مطابق اس حملے کے نتیجے میں کم از کم تین شہری جاں بحق جبکہ متعدد افراد شدید زخمی ہو گئے ہیں۔ حملے کی نوعیت اتنی شدید تھی کہ بندرگاہ کے بنیادی ڈھانچے کو بھی کافی نقصان پہنچا ہے اور تجارتی سرگرمیاں معطل ہو کر رہ گئی ہیں۔ یمنی حکومت اور بین الاقوامی اداروں نے اس کارروائی کو دہشت گردی قرار دیتے ہوئے اس کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔ حوثی باغیوں کی جانب سے کی جانے والی اس کارروائی نے ایک بار پھر بحیرہ احمر اور خلیج عدن میں بین الاقوامی بحری تجارت اور سپلائی لائنوں کے لیے شدید خطرات پیدا کر دیے ہیں۔ دنیا بھر کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اس اہم تجارتی راستے پر اس قسم کے حملے عالمی معیشت بالخصوص تیل کی ترسیل پر گہرے اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔ بین الاقوامی برادری نے ہمیشہ اس بات پر زور دیا ہے کہ بحری گزرگاہوں کو محفوظ بنایا جائے تاکہ عالمی تجارت میں کوئی رکاوٹ نہ آئے، لیکن حوثی باغیوں کی مسلسل کارروائیوں نے سیکیورٹی کے خدستان میں ہوشربا اضافہ کر دیا ہے۔ دوسری جانب، خلیج تعاون کونسل (GCC) سمیت کئی عالمی تنظیموں نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اس بیان کا خیرمقدم کیا ہے جس میں حوثی دہشت گردانہ کارروائیوں کی مذمت کی گئی تھی۔ جی سی سی کے سیکرٹری جنرل نے عالمی برادری سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ وہ ان پرتشدد کارروائیوں کا نوٹس لیں اور ذمہ داروں کو کٹہرے میں لانے کے لیے عملی اقدامات کریں۔ مبصرین کا ماننا ہے کہ اگر یمن میں امن کے لیے فوری اور سنجیدہ کوششیں نہ کی گئیں تو یہ تنازعہ مزید پھیل سکتا ہے اور پورے خطے کو اپنی لپیٹ میں لے سکتا ہے۔