World
چین میں شادی کے نام پر دھوکہ دہی کی وارداتیں اور جعلی دلہنوں کا اسکینڈل
چین میں صنفی عدم توازن اور آبادیاتی بحران کے باعث شادی کے خواہشمند تنہا مردوں کو جعلی دلہنوں کے ذریعے لوٹنے کا سلسلہ تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ اس سنگین صورتحال نے سماجی اور معاشی مسائل کو مزید گھمبیر بنا دیا ہے۔
چین میں آبادیاتی بحران کے باعث شادی کے خواہشمند ہزاروں تنہا مرد اب ’فلیش میرج‘ یا فوری شادی کے نام پر ہونے والے دھوکہ دہی کے اسکینڈلز کا شکار ہو رہے ہیں۔ چین میں مردوں اور عورتوں کی آبادی میں واضح توازن نہ ہونے کی وجہ سے شادی کے خواہشمند افراد کے لیے جیون ساتھی تلاش کرنا ایک مشکل مرحلہ بن چکا ہے، اور اسی کمزوری کا فائدہ اٹھاتے ہوئے منظم گروہ جعلی دلہنوں کے ذریعے ان مردوں کو لوٹ رہے ہیں۔ یہ گروہ مختلف دیہی علاقوں کے سادہ لوح مردوں کو شادی کا لالچ دیتے ہیں اور شادی کے اخراجات یا جہیز کے نام پر بڑی رقوم بٹور کر غائب ہو جاتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق یہ رجحان چین کے طویل عرصے سے جاری آبادیاتی بحران کا ایک شدید شاخسانہ ہے۔ ایک دہائی سے زائد عرصے تک جاری رہنے والی ’ون چائلڈ پالیسی‘ کے اثرات اب معاشرتی سطح پر شدت سے نمایاں ہو رہے ہیں، جس کے نتیجے میں شادی کی عمر کو پہنچنے والے مردوں کی تعداد خواتین کے مقابلے میں بہت زیادہ ہے۔ اس صنفی عدم توازن نے معاشرے میں تنہائی کے شکار مردوں کی ایک بڑی تعداد پیدا کر دی ہے جو سماجی دباؤ اور خاندانی توقعات کے تحت جلد از جلد شادی کرنے پر مجبور ہیں۔ اسی مجبوری کا فائدہ اٹھاتے ہوئے دھوکہ باز نیٹ ورکس جعلی دلہنوں کو بطور ہتھیار استعمال کرتے ہیں۔
ان وارداتوں میں ملوث گروہ اکثر دور دراز کے علاقوں سے ایسی خواتین کو تلاش کرتے ہیں جو خود معاشی مشکلات کا شکار ہوتی ہیں، اور انہیں اس دھوکہ دہی کے عمل میں شامل کر لیا جاتا ہے۔ شادی کے فوری بعد یہ ’دلہنیں‘ زیورات، نقد رقم اور قیمتی تحائف لے کر فرار ہو جاتی ہیں، جس سے متاثرہ مرد نہ صرف مالی طور پر کنگال ہو جاتے ہیں بلکہ انہیں شدید ذہنی صدمے کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے۔ مقامی پولیس اور انتظامیہ کے لیے ان مجرمانہ نیٹ ورکس کو پکڑنا ایک چیلنج بنا ہوا ہے کیونکہ یہ گروہ تیزی سے اپنی جگہ اور طریقہ کار تبدیل کرتے رہتے ہیں۔
اس صورتحال نے چینی معاشرے میں شادی کے روایتی ڈھانچے پر بھی گہرے اثرات مرتب کیے ہیں۔ اب بہت سے مرد شادی کے لیے اپنی بچت ختم کرنے کے بعد بھی تنہائی کا شکار رہ جاتے ہیں، جس سے سماجی بے چینی میں اضافہ ہو رہا ہے۔ حکومت اور سماجی تنظیموں کی جانب سے اگرچہ لوگوں کو خبردار کیا جا رہا ہے، تاہم جب تک چین کا آبادیاتی توازن درست نہیں ہوتا، تب تک اس قسم کے اسکینڈلز کے خاتمے کے امکانات بہت کم دکھائی دیتے ہیں۔ یہ معاملہ صرف ایک مجرمانہ سرگرمی نہیں بلکہ چین کے مستقبل کے لیے ایک بڑا سماجی سوال بن چکا ہے۔