World
کولمبیا زلزلہ: صدر ایسپریلا کا متاثرہ علاقوں میں امدادی سرگرمیوں کا دورہ
کولمبیا کے نو منتخب صدر ایسپریلا نے بوگوٹا میں آنے والے شدید زلزلے کے بعد متاثرہ علاقوں میں جاری ہنگامی امدادی کاموں کی خود نگرانی کرنے کا اعلان کیا ہے۔ حکومت نے زلزلہ زدگان کی فوری بحالی اور انہیں طبی امداد کی فراہمی کے لیے تمام تر وسائل بروئے کار لانے کے احکامات جاری کر دیے ہیں۔
کولمبیا کے نو منتخب صدر ایسپریلا نے بوگوٹا میں آنے والے تباہ کن زلزلے کے بعد پیدا ہونے والی ہنگامی صورتحال کے پیش نظر امدادی کارروائیوں کی براہ راست کمان سنبھال لی ہے۔ صدارتی دفتر کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق، صدر ایسپریلا نے ملک کا چارج سنبھالتے ہی اپنی پہلی ترجیح قدرتی آفت سے متاثرہ شہریوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنا اور انہیں فوری طبی امداد فراہم کرنا قرار دیا ہے۔ بوگوٹا کے مختلف علاقوں میں زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے جانے کے بعد سے ہی انتظامیہ ہائی الرٹ پر ہے اور ریسکیو ٹیمیں ملبے تلے دبے افراد کی تلاش کے لیے سرگرم عمل ہیں۔
صدر ایسپریلا نے ہنگامی بنیادوں پر ایک خصوصی ٹاسک فورس تشکیل دی ہے جو زلزلے سے ہونے والے نقصانات کا تخمینہ لگانے اور متاثرہ خاندانوں کی بحالی کے لیے کام کرے گی۔ انہوں نے ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کرنے کی ہدایت دی ہے تاکہ زخمیوں کو بروقت طبی سہولیات میسر آ سکیں۔ انہوں نے متاثرہ علاقوں کے دورے کے دوران مقامی شہریوں سے ملاقات کی اور یقین دلایا کہ حکومت اس مشکل وقت میں تنہا نہیں چھوڑے گی اور تمام تر وسائل متاثرین کی مدد کے لیے استعمال کیے جائیں گے۔
دوسری جانب ماہرین ارضیات نے بوگوٹا میں زلزلے کے بعد آفٹر شاکس کے خدشے کا اظہار کیا ہے، جس کے پیش نظر صدر نے عوام سے احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی اپیل کی ہے۔ شہری انتظامیہ کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ خطرناک عمارتوں کو خالی کروا کر وہاں رہائش پذیر افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کرے۔ کولمبیا کی حکومت کی جانب سے یہ بروقت اقدامات عوامی حلقوں میں سراہے جا رہے ہیں کیونکہ ملک کو اس وقت سیاسی تبدیلی کے ساتھ ساتھ ایک بڑی قدرتی آفت کا سامنا ہے۔
امید کی جا رہی ہے کہ صدر ایسپریلا کی قیادت میں تشکیل دی گئی یہ خصوصی ٹیمیں جلد از جلد معمولات زندگی بحال کرنے میں کامیاب ہو جائیں گی۔ عالمی برادری نے بھی کولمبیا کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کیا ہے اور ضرورت پڑنے پر تکنیکی اور طبی مدد کی پیشکش کی ہے۔ فی الحال بوگوٹا میں ریسکیو کا کام جاری ہے اور صدر خود صورتحال کی لمحہ بہ لمحہ نگرانی کر رہے ہیں۔