Technology
کاروباری دنیا میں اے آئی کا استعمال: چھوٹے اداروں کی سستی کیوں؟
ایک حالیہ سروے کے مطابق دنیا بھر میں چھوٹے پیمانے کے کاروباروں کی اکثریت ابھی تک مصنوعی ذہانت کی ٹیکنالوجی کو اپنانے میں ہچکچاہٹ کا شکار ہے۔ سروے سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ 80 فیصد سے زائد چھوٹے ادارے جدید ترین ٹیکنالوجی کے فوائد سے استفادہ کرنے میں پیچھے ہیں۔
جدید ٹیکنالوجی کے اس دور میں جہاں مصنوعی ذہانت (اے آئی) ہر شعبے میں انقلاب برپا کر رہی ہے، وہیں چھوٹے پیمانے کے کاروباری اداروں کے حوالے سے ایک تشویشناک سروے سامنے آیا ہے۔ ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق صرف 18 فیصد چھوٹے کاروباری اداروں نے اے آئی کو اپنے کاروباری ماڈل یا روزمرہ کے امور کا حصہ بنایا ہے۔ یہ اعدادوشمار ظاہر کرتے ہیں کہ چھوٹی صنعتیں عالمی سطح پر جاری ڈیجیٹل انقلاب سے خاطر خواہ فائدہ اٹھانے میں تاحال ناکام دکھائی دیتی ہیں۔ سروے کے نتائج بتاتے ہیں کہ نصف سے زائد چھوٹے اداروں نے ابھی تک اے آئی کی ٹیکنالوجی کو اپنے کاروبار کے کسی بھی شعبے میں استعمال نہیں کیا ہے۔
ماہرین کا ماننا ہے کہ چھوٹے کاروباری اداروں کے لیے مصنوعی ذہانت کو اپنانے میں سب سے بڑی رکاوٹ مہارت، تکنیکی معلومات اور مالی وسائل کی کمی ہے۔ بہت سے چھوٹے کاروباروں کو اس بات کا ادراک ہی نہیں ہے کہ اے آئی ان کے روزمرہ کے کاموں کو کس طرح تیز اور موثر بنا سکتی ہے۔ اکثر چھوٹے کاروباری مالکان اے آئی کو صرف بڑی کارپوریشنز کے لیے مختص سمجھتے ہیں، جس کی وجہ سے وہ جدید آٹومیشن ٹولز کے استعمال سے گریز کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ ڈیٹا کے تحفظ اور پرائیویسی سے متعلق خدشات بھی چھوٹے کاروباری اداروں کے اس ٹیکنالوجی سے دور رہنے کی اہم وجوہات میں شامل ہیں۔
اگرچہ بڑی ٹیکنالوجی کمپنیاں اے آئی کے ذریعے اربوں ڈالر کا کاروبار کر رہی ہیں، لیکن چھوٹے اداروں کے لیے یہ ٹیکنالوجی تاحال ایک چیلنج بنی ہوئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق، جن اداروں نے اے آئی کا انتخاب کیا بھی ہے، ان میں سے زیادہ تر نے اسے کسٹمر سپورٹ یا مارکیٹنگ کے چند محدود شعبوں تک ہی محدود رکھا ہے۔ ماہرین معاشیات کا کہنا ہے کہ اگر چھوٹے کاروباروں نے وقت کے ساتھ خود کو مصنوعی ذہانت کے سانچے میں نہ ڈھالا تو وہ بڑی مارکیٹ کے مسابقتی ماحول میں اپنی بقا کو خطرے میں ڈال سکتے ہیں۔ آنے والے وقتوں میں یہ ٹیکنالوجی چھوٹے کاروباروں کی ترقی اور توسیع کے لیے ناگزیر ہو جائے گی۔
آخر میں، یہ بات واضح ہے کہ حکومتوں اور متعلقہ اداروں کو چھوٹے کاروباری مالکان کے لیے تربیتی سیشنز اور تکنیکی معاونت کے پروگرام شروع کرنے کی ضرورت ہے۔ جب تک چھوٹے کاروباری اداروں کو اے آئی کے عملی فوائد کے بارے میں آگاہی فراہم نہیں کی جائے گی اور انہیں کم خرچ پر ڈیجیٹل ٹولز دستیاب نہیں ہوں گے، تب تک ڈیجیٹل تقسیم کی یہ خلیج برقرار رہے گی۔ ٹیکنالوجی کا درست استعمال نہ صرف ان کی آمدنی میں اضافے کا باعث بن سکتا ہے بلکہ انہیں عالمی منڈیوں میں ایک بہتر مقام بھی دلا سکتا ہے۔