Technology
کیلیفورنیا میں اے آئی چیٹ بوٹس کی تھراپی کے لیے تشہیر پر نئی قانونی پابندیاں
کیلیفورنیا کی قانون ساز اسمبلی میں ایک نیا بل پیش کیا گیا ہے جس کا مقصد مصنوعی ذہانت پر مبنی چیٹ بوٹس کو علاج یا تھراپی کے طور پر مارکیٹ کرنے سے روکنا ہے۔ اس قانون سازی کے ذریعے طبی ماہرین کے لیے مصنوعی ذہانت کے استعمال کے نئے معیارات بھی طے کیے جائیں گے۔
کیلیفورنیا کی قانون ساز اسمبلی میں ایک اہم بل پیش کیا گیا ہے جس کا مقصد مصنوعی ذہانت (AI) کے چیٹ بوٹس کو نفسیاتی علاج یا تھراپی کے متبادل کے طور پر فروغ دینے پر پابندی لگانا ہے۔ یہ اقدام اس بڑھتے ہوئے خدشے کے پیش نظر اٹھایا گیا ہے کہ ٹیکنالوجی کمپنیاں غیر مصدقہ طریقوں سے لوگوں کو ذہنی صحت کے حوالے سے گمراہ کر سکتی ہیں۔ مجوزہ قانون سازی کے تحت کمپنیوں کو سختی سے منع کیا جائے گا کہ وہ اپنے اے آئی پروگرامز کو بطور معالج یا تھراپسٹ کے پیش کریں۔ حکام کا ماننا ہے کہ انسانی جذبات اور پیچیدہ نفسیاتی مسائل کو صرف الگورتھم کے ذریعے حل کرنا ممکن نہیں اور اس سے مریضوں کی صحت کو سنگین خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔
اس بل کے دیگر اہم پہلوؤں میں لائسنس یافتہ طبی ماہرین کے لیے مصنوعی ذہانت کے استعمال کے سخت قواعد و ضوابط شامل ہیں۔ اگر یہ بل قانون بن جاتا ہے تو، ڈاکٹروں اور تھراپسٹس کو اپنے کلینیکل کاموں میں مصنوعی ذہانت کے ٹولز استعمال کرنے کے لیے سخت شفافیت کے اصولوں کی پاسداری کرنا ہوگی۔ قانون سازوں کا کہنا ہے کہ مریضوں کا ڈیٹا محفوظ رکھنا اور مصنوعی ذہانت کے فیصلوں میں انسانی نگرانی کا ہونا لازمی ہے۔ اس سے نہ صرف مریضوں کے حقوق کا تحفظ ہوگا بلکہ ٹیکنالوجی کے غیر ذمہ دارانہ استعمال سے پیدا ہونے والے طبی نقصانات کو بھی روکا جا سکے گا۔
ٹیکنالوجی ماہرین اور انسانی حقوق کے علمبرداروں نے اس پیش رفت کو خوش آئند قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ڈیجیٹل دور میں جہاں چیٹ بوٹس تیزی سے مقبول ہو رہے ہیں، وہیں ان کے طبی اثرات کی جانچ پڑتال بھی ناگزیر ہے۔ کئی کمپنیوں نے اپنے پلیٹ فارمز پر چیٹ بوٹس کو 'دوست' یا 'مشیر' کے طور پر پیش کر رکھا ہے، تاہم طبی ماہرین کا دعویٰ ہے کہ یہ چیٹ بوٹس اکثر غلط معلومات فراہم کر سکتے ہیں جو کہ ذہنی صحت کے مریضوں کے لیے مہلک ثابت ہو سکتی ہیں۔ کیلیفورنیا کا یہ بل پوری دنیا کے لیے ایک مثال بن سکتا ہے کہ کس طرح ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجی کو اخلاقی اور قانونی حدود میں رہ کر استعمال کیا جائے۔
اب یہ بل قانون ساز اسمبلی کے مختلف مراحل سے گزرے گا، جہاں اس پر مزید بحث و مباحثہ متوقع ہے۔ اگر اسے حتمی منظوری مل جاتی ہے تو کیلیفورنیا ریاست بھر میں اے آئی کے طبی استعمال کے حوالے سے ایک واضح اور سخت قانونی فریم ورک رکھنے والی پہلی ریاستوں میں شامل ہو جائے گی۔ یہ قانون سازی نہ صرف کمپنیوں کو اپنی مارکیٹنگ پالیسیاں تبدیل کرنے پر مجبور کرے گی بلکہ اس بات کو بھی یقینی بنائے گی کہ مریضوں کو کسی بھی مصنوعی ذہانت کے پروگرام سے مستفید ہونے سے پہلے اس کے فوائد اور نقصانات سے مکمل آگاہی ہو۔