LIVE
Loading Breaking News...

جدید ٹیکنالوجی: دنیا کا پہلا ڈائمنڈ کوانٹم کمپیوٹر متعارف

News Image
سائنسدانوں نے دنیا کا پہلا ایسا کوانٹم کمپیوٹر تیار کر لیا ہے جو ڈائمنڈ ٹیکنالوجی پر مبنی ہے اور کمرے کے عام درجہ حرارت پر کام کرتا ہے۔ یہ جدید ڈیوائس کسی بھی عام بجلی کے پلگ کے ذریعے چلائی جا سکتی ہے جو کوانٹم کمپیوٹنگ کی تاریخ میں ایک سنگ میل ہے۔
ٹیکنالوجی کی دنیا میں ایک انقلابی پیش رفت سامنے آئی ہے جہاں سائنسدانوں نے دنیا کا پہلا ایسا پورٹیبل کوانٹم کمپیوٹر تیار کر لیا ہے جو ڈائمنڈ ٹیکنالوجی (ہیرا) پر مبنی ہے اور کسی بھی عام بجلی کے ساکٹ سے منسلک ہو کر کام کر سکتا ہے۔ اس ایجاد کی سب سے بڑی خاصیت یہ ہے کہ اسے چلانے کے لیے انتہائی ٹھنڈے ماحول کی ضرورت نہیں، بلکہ یہ کمرے کے عام درجہ حرارت پر بھی انتہائی درستگی کے ساتھ کام کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ ماضی میں کوانٹم کمپیوٹرز کو انتہائی پیچیدہ اور منجمد درجہ حرارت والے آلات میں رکھا جاتا تھا، مگر یہ نئی پیش رفت اسے عام استعمال کے قریب لے آئی ہے۔ اس منفرد کمپیوٹر کی تیاری میں انجینئرز نے سلفر کو-امپلانٹیشن (sulfur co-implantation) نامی تکنیک کا استعمال کیا ہے، جس کی بدولت وہ انفرادی ڈائمنڈ کیوبٹس (qubits) پر مکمل کنٹرول حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔ یہ کیوبٹس کوانٹم کمپیوٹنگ کا بنیادی حصہ ہیں، اور ان پر کنٹرول کا مطلب ہے کہ کمپیوٹر کی ڈیٹا پروسیسنگ کی رفتار اور درستگی کئی گنا بڑھ گئی ہے۔ محققین کے مطابق، ڈائمنڈ کے ڈھانچے میں موجود نقائص کو اس طرح سے استعمال کیا گیا ہے کہ وہ ایک مستحکم کوانٹم پروسیسر کے طور پر کام کر سکیں۔ اس سسٹم کا سب سے حیران کن پہلو اس کا بجلی کے عام اے سی (AC) آؤٹ لیٹ کے ساتھ براہ راست کنیکٹ ہونا ہے۔ یہ ڈیوائس ایک پورٹیبل فارم فیکٹر میں ڈیزائن کی گئی ہے جس کا مطلب ہے کہ اب کوانٹم کمپیوٹنگ کی طاقت لیبارٹریوں کی بند دیواروں سے نکل کر حقیقی دنیا کے استعمال میں آ سکتی ہے۔ اگرچہ یہ ابھی اپنی ابتدائی شکل میں ہے، لیکن ماہرین کا ماننا ہے کہ یہ ٹیکنالوجی مستقبل میں ڈیٹا سیکیورٹی، مصنوعی ذہانت، اور ادویات کی تحقیق کے شعبوں میں ایک بڑی تبدیلی لائے گی۔ مزید برآں، یہ ایجاد کوانٹم کمپیوٹنگ کے لیے درکار بھاری اخراجات اور انفراسٹرکچر کے مسائل کو حل کرنے کی راہ ہموار کرتی ہے۔ اس کمپیوٹر کے ذریعے پیچیدہ ترین ریاضیاتی مسائل کو حل کرنا اب عام کمپیوٹرز کے مقابلے میں بہت زیادہ تیز اور موثر ہو جائے گا۔ سائنسدان اب اس ٹیکنالوجی کو مزید چھوٹے پیمانے پر لانے اور اس کی پروسیسنگ طاقت کو بڑھانے پر کام کر رہے ہیں، جس سے مستقبل قریب میں عام صارفین کے لیے بھی کوانٹم کمپیوٹنگ کے دروازے کھلنے کا امکان پیدا ہو گیا ہے۔