LIVE
Loading Breaking News...

سونے کی قیمتوں میں ریکارڈ اضافہ، عالمی منڈی میں تیزی

News Image
عالمی مارکیٹ میں سونے کی قیمتوں میں تیزی کا رجحان برقرار ہے اور دھات نو ہفتوں کی بلند ترین سطح پر پہنچ چکی ہے۔ سرمایہ کاروں کی جانب سے خریداری میں اضافے اور افراطِ زر کے اعداد و شمار کے منتظر مارکیٹ کے حالات اس تیزی کی بڑی وجہ ہیں۔
عالمی مالیاتی منڈیوں میں سونے کی قیمتوں میں غیر معمولی تیزی دیکھی جا رہی ہے، جس کے نتیجے میں سونے کے نرخ نو ہفتوں کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئے ہیں۔ ماہرینِ معیشت کا کہنا ہے کہ یہ اضافہ سرمایہ کاروں کی جانب سے خرید و فروخت کے بڑھتے ہوئے رجحان اور عالمی سطح پر پیدا ہونے والی غیر یقینی صورتحال کا نتیجہ ہے۔ خاص طور پر امریکی معیشت سے متعلق افراطِ زر (inflation) کے آنے والے اعداد و شمار نے سونے کی مارکیٹ میں ایک نئی ہلچل پیدا کر دی ہے، جس کے پیشِ نظر سرمایہ کار سونے کو ایک محفوظ اثاثہ سمجھتے ہوئے اس میں دلچسپی لے رہے ہیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق، سونے کی قیمتوں میں ہونے والا یہ حالیہ اضافہ گزشتہ کئی ہفتوں کی مسلسل محنت کا نتیجہ ہے۔ جہاں ایک طرف سرمایہ کار مہنگائی کے دباؤ سے بچنے کے لیے سونے کا رخ کر رہے ہیں، وہیں دوسری طرف عالمی سیاسی کشیدگی اور خاص طور پر مشرق وسطیٰ کی صورتحال نے بھی سونے کی طلب میں اضافہ کیا ہے۔ فیڈرل ریزرو کی جانب سے شرح سود میں ممکنہ تبدیلیوں کے حوالے سے قیاس آرائیاں بھی مارکیٹ کے مجموعی ماحول پر اثر انداز ہو رہی ہیں۔ اگرچہ کچھ سرمایہ کاروں میں ڈالر کی مضبوطی کی وجہ سے احتیاط کا عنصر بھی پایا جاتا ہے، تاہم مجموعی طور پر سونے کا رجحان فی الحال مثبت سمت میں گامزن ہے۔ ماہرین کا یہ بھی ماننا ہے کہ اگر امریکی افراطِ زر کے اعداد و شمار توقعات سے زیادہ رہے تو سونے کی قیمتوں میں مزید تیزی دیکھنے میں آ سکتی ہے۔ مارکیٹ کے شرکاء انتہائی باریک بینی سے امریکی مانیٹری پالیسی کے فیصلوں کا جائزہ لے رہے ہیں تاکہ مستقبل کی سرمایہ کاری کے حوالے سے درست فیصلے کیے جا سکیں۔ سونے کی قیمتوں میں اس تیزی نے نہ صرف بین الاقوامی سطح پر توجہ حاصل کر لی ہے بلکہ مقامی منڈیوں پر بھی اس کے اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ آنے والے چند دن مارکیٹ کے لیے انتہائی اہم ہوں گے کیونکہ افراطِ زر کے تازہ ترین اعداد و شمار ہی سونے کی قیمتوں کے آئندہ کے تعین میں کلیدی کردار ادا کریں گے۔