World
نیتن یاہو اور ٹرمپ کا غزہ امن منصوبہ: کیا تصادم متوقع ہے؟
اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کو غزہ میں جاری جنگ کے حوالے سے ڈونلڈ ٹرمپ کے ممکنہ امن منصوبے کے دباؤ کا سامنا ہے۔ سیاسی ماہرین سوال اٹھا رہے ہیں کہ آیا نیتن یاہو اپنی داخلی سیاست کو بچانے کے لیے ٹرمپ کے وژن کو نظر انداز کرنے کی ہمت کر پائیں گے۔
اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو اس وقت ایک نازک سیاسی موڑ پر کھڑے ہیں جہاں انہیں اپنے طویل عرصے کے اتحادی اور مستقبل کے ممکنہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے وژن اور اپنے داخلی سیاسی ایجنڈے کے درمیان توازن برقرار رکھنا ہے۔ غزہ میں جاری جنگ کے حوالے سے ڈونلڈ ٹرمپ کے ممکنہ امن منصوبے اور نیتن یاہو کی ہٹ دھرمی کے درمیان خلیج وسیع ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔ تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ نیتن یاہو کے لیے ٹرمپ جیسے بااثر رہنما کی مخالفت کرنا سیاسی طور پر بہت مہنگا ثابت ہو سکتا ہے۔ ٹرمپ کی جانب سے جنگ کے خاتمے اور کسی بھی ممکنہ امن معاہدے کے لیے دبائو اسرائیل کی داخلی صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا سکتا ہے۔
نیتن یاہو کی حکومت کا دارومدار دائیں بازو کی انتہا پسند جماعتوں پر ہے جو غزہ میں کسی بھی قسم کے سمجھوتے یا امن منصوبے کے سخت خلاف ہیں۔ دوسری جانب ڈونلڈ ٹرمپ اپنی 'امریکہ فرسٹ' پالیسی اور خطے میں استحکام کے لیے کسی بڑی پیش رفت کے خواہشمند ہیں، جو نیتن یاہو کی موجودہ جنگی حکمت عملی سے ٹکرا سکتی ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آیا نیتن یاہو امریکہ کی جانب سے ملنے والے فوجی اور سفارتی تعاون کو خطرے میں ڈال کر اپنی حکومت کو بچانے کے لیے ٹرمپ کے احکامات کو ماننے سے انکار کر سکتے ہیں؟ اگر وہ ٹرمپ کی پالیسی کو مسترد کرتے ہیں تو انہیں عالمی سطح پر سفارتی تنہائی کا سامنا بھی کرنا پڑ سکتا ہے۔
ماہرینِ خارجہ امور کے مطابق نیتن یاہو ماضی میں بھی امریکی صدور کے ساتھ تعلقات میں اتار چڑھاؤ دیکھ چکے ہیں، لیکن ٹرمپ کے ساتھ ان کا معاملہ مختلف نوعیت کا ہے۔ ٹرمپ کا اندازِ حکمرانی روایتی نہیں ہے، اور وہ اپنے منصوبوں پر عمل درآمد کے لیے سخت دباؤ ڈالنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ اگر نیتن یاہو نے ٹرمپ کے مجوزہ امن منصوبے کو ناکام بنانے کی کوشش کی تو اس کے نتیجے میں دونوں رہنماؤں کے درمیان تعلقات میں ایک بڑی دراڑ پیدا ہو سکتی ہے، جس کے اثرات اسرائیل کی سکیورٹی اور خطے کے مستقبل پر گہرے ہوں گے۔
آخر کار، نیتن یاہو کا فیصلہ ان کی سیاسی بقا اور اسرائیل کے طویل مدتی مفادات کے درمیان ایک کشمکش ہے۔ کیا وہ ٹرمپ کے سامنے جھک کر جنگ بندی پر رضامند ہوں گے یا پھر اپنی دائیں بازو کی حامیوں کو خوش رکھنے کے لیے امریکی دباؤ کو مسلسل نظر انداز کرتے رہیں گے؟ آنے والے چند مہینے اس حوالے سے انتہائی اہم ہوں گے، کیونکہ عالمی برادری غزہ میں قیام امن کے لیے کسی حتمی معاہدے کی منتظر ہے۔ یہ صورتحال نیتن یاہو کے سیاسی کیریئر کے لیے ایک کڑے امتحان سے کم نہیں ہے۔