World
یوکرین کے خفیہ ڈرون لانچنگ سائٹس کی تفصیلات
یوکرین کے مشرقی حصے میں واقع ایک خفیہ مقام سے ڈرون لانچنگ کی خصوصی جھلک سامنے آئی ہے۔ ان ڈرونز کو روسی اہداف کو نشانہ بنانے کے لیے طویل فاصلے تک مار کرنے کی صلاحیت سے لیس کیا گیا ہے۔
مشرقی یوکرین کے ایک نامعلوم اور انتہائی محفوظ مقام پر یوکرینی فوج نے طویل فاصلے تک مار کرنے والے ڈرونز کی لانچنگ کے لیے ایک خفیہ مرکز قائم کر رکھا ہے۔ الجزیرہ کی نامہ نگار آڈری میک الپائن کی جانب سے سامنے آنے والی اس خصوصی رپورٹ میں دیکھا جا سکتا ہے کہ کس طرح یوکرینی فوجی انتہائی مہارت کے ساتھ اپنے ڈرون بیڑے کو تیار کر رہے ہیں۔ یہ سائٹ مکمل طور پر خفیہ رکھی گئی ہے تاکہ روسی نگرانی اور حملوں سے بچا جا سکے، جبکہ یہاں سے بھیجے جانے والے ڈرونز یوکرین کی دفاعی حکمت عملی میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں۔
اس خفیہ سائٹ پر تعینات اہلکار ان ڈرونز کی تکنیکی دیکھ بھال اور ان کی پروگرامنگ میں دن رات مصروف رہتے ہیں۔ یہ ڈرونز جدید سینسرز اور طویل فاصلے تک پرواز کرنے والے انجنوں سے لیس ہیں، جو دشمن کے ٹھکانوں کو ہزاروں کلومیٹر دور سے بھی نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق، ان ڈرونز کا مقصد یوکرین کے دفاعی حصار کو مضبوط کرنا اور ایسے مقامات پر حملہ کرنا ہے جو زمینی فوج کی پہنچ سے دور ہیں۔ یوکرینی فوج کے لیے یہ جدید ہتھیار نہ صرف تزویراتی اہمیت کے حامل ہیں بلکہ یہ جنگ کے میدان میں قوتِ توازن تبدیل کرنے میں بھی کلیدی کردار ادا کر رہے ہیں۔
فیلڈ پر موجود فوجیوں کا کہنا ہے کہ ڈرون ٹیکنالوجی اب جدید جنگ کا سب سے اہم جزو بن چکی ہے۔ اس خفیہ بیس پر موجود ڈرونز کو مختلف قسم کے پے لوڈز کے ساتھ لیس کیا جا سکتا ہے، جس کی بدولت یہ مختلف نوعیت کے آپریشنز میں استعمال ہوتے ہیں۔ اگرچہ سیکیورٹی وجوہات کی بنا پر اس جگہ کے جغرافیائی کوآرڈینیٹس اور دیگر تکنیکی تفصیلات کو خفیہ رکھا گیا ہے، تاہم یہ عیاں ہے کہ یوکرینی افواج اپنے مقامی طور پر تیار کردہ اور جدید ٹیکنالوجی سے لیس ڈرونز کے ذریعے روس کے خلاف ایک موثر حکمت عملی اپنائے ہوئے ہیں۔
یہ ڈرون لانچنگ سائٹس یوکرین کی اس مسلسل کوشش کا حصہ ہیں جس میں وہ اپنی دفاعی صنعت کو مقامی سطح پر بہتر بنا رہے ہیں۔ مغربی ممالک سے ملنے والی مدد کے ساتھ ساتھ، یوکرین اب خود بھی ایسے ہتھیار تیار کر رہا ہے جو میدانِ جنگ میں دشمن کے لیے دردِ سر بنے ہوئے ہیں۔ اس خفیہ مشن کے پیچھے کام کرنے والی ٹیمیں انتہائی عزم کے ساتھ اپنے فرائض سرانجام دے رہی ہیں، اور ان کا کہنا ہے کہ ڈرون ٹیکنالوجی میں یہ جدت ہی مستقبل کی جنگوں کا رخ طے کرنے میں فیصلہ کن ثابت ہوگی۔