LIVE
Loading Breaking News...

مصنوعی ذہانت: کیا انسانیت کے لیے اے آئی ایک بڑا خطرہ بن چکی ہے؟

News Image
مشہور صحافی اینڈریو نیل نے خبردار کیا ہے کہ مصنوعی ذہانت کی تیز رفتار ترقی نے واشنگٹن کے حلقوں میں تشویش اور بے چینی پیدا کر دی ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اس ٹیکنالوجی کا تاریک پہلو پوری انسانیت کے لیے سنگین خطرات کا باعث بن سکتا ہے۔
مشہور صحافی اینڈریو نیل نے اپنی حالیہ رپورٹ میں انتباہ جاری کیا ہے کہ مصنوعی ذہانت (AI) کی ترقی نے جس تیزی سے دنیا کو اپنی گرفت میں لیا ہے، اس نے واشنگٹن کے حکومتی اور انٹیلی جنس حلقوں میں ایک عجیب قسم کی افراتفری اور مفلوج کر دینے والی کیفیت پیدا کر دی ہے۔ ان کے مطابق، جو لوگ پس پردہ معلومات تک رسائی رکھتے ہیں، وہ اب کھلے عام یہ کہنے لگے ہیں کہ یہ ٹیکنالوجی جتنی فائدہ مند دکھائی دیتی ہے، اس کا تاریک پہلو اتنا ہی خطرناک ہے جو براہ راست نوع انسانی کے وجود کے لیے خطرہ بن سکتا ہے۔ اسٹیٹلے کوبرک کی مشہور فلم '2001: اے اسپیس اوڈیسی' کا ذکر کرتے ہوئے نیل نے اس بات پر زور دیا کہ جیسے فلم میں 'ہال' نامی کمپیوٹر انسانی کنٹرول سے باہر ہو گیا تھا، آج کی اے آئی بھی اسی جانب گامزن دکھائی دیتی ہے۔ واشنگٹن میں پائی جانے والی یہ 'بے چینی' محض قیاس آرائیوں پر مبنی نہیں ہے بلکہ انٹیلی جنس حکام کو خدشہ ہے کہ جس رفتار سے بڑے لینگویج ماڈلز اور خودکار سسٹمز ترقی کر رہے ہیں، اس پر قابو پانا حکومتوں کے لیے ناممکن ہوتا جا رہا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اے آئی کے ذریعے غلط معلومات پھیلانے، سائبر حملوں کو منظم کرنے اور خودمختار ہتھیاروں کے بننے کے امکانات نے عالمی سلامتی کے ڈھانچے کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ یہ تکنیکی انقلاب روایتی جنگی مہارتوں اور قومی سلامتی کے تصورات کو یکسر تبدیل کر رہا ہے، جس کی وجہ سے پالیسی سازوں کو سمجھ نہیں آ رہا کہ اس بے لگام ٹیکنالوجی کو کس طرح ریگولیٹ کیا جائے۔ اینڈریو نیل نے مزید لکھا ہے کہ اس ٹیکنالوجی کی 'تاریک سائیڈ' صرف معاشی یا معاشرتی نہیں بلکہ حیاتیاتی نوعیت کی بھی ہو سکتی ہے۔ اگر اے آئی کے سسٹمز انسانی اقدار اور اخلاقیات سے ہٹ کر فیصلے کرنے لگے، تو اس کے نتائج تباہ کن ہو سکتے ہیں۔ واشنگٹن میں اس وقت بحث کا مرکز یہ ہے کہ آیا اس ٹیکنالوجی کو محدود کیا جائے یا اس کی ترقی کی رفتار کو برقرار رکھتے ہوئے اسے محفوظ بنایا جائے۔ تاہم، حقیقت یہ ہے کہ ٹیکنالوجی کی دوڑ میں شامل ممالک ایک دوسرے سے پیچھے نہیں رہنا چاہتے، جس کے نتیجے میں حفاظت کے پہلوؤں کو اکثر نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔ آخر میں، یہ سمجھنا ضروری ہے کہ مصنوعی ذہانت کا دور اب ایک ناگزیر حقیقت بن چکا ہے۔ انسانیت کو اس کے مثبت پہلوؤں سے فائدہ اٹھانے کے لیے ایسی عالمی حکمت عملی کی ضرورت ہے جو ٹیکنالوجی کے بے قابو ہونے کے امکانات کو ختم کر سکے۔ اگر واشنگٹن اور دیگر عالمی طاقتیں بروقت اس 'پینک' کو ایک ٹھوس اور ذمہ دارانہ پالیسی میں تبدیل نہ کر سکیں، تو مستقبل قریب میں ہمیں ایسے چیلنجز کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے جن کا تصور کرنا بھی آج مشکل ہے۔ انسان کو یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ کیا وہ اس ٹیکنالوجی کا مالک رہے گا یا اس کا غلام بن جائے گا۔