LIVE
Loading Breaking News...

پی ایف اے ایس کیمیکلز اور ورزش: خواتین کی صحت کے لیے اہم انکشافات

News Image
پولینڈ کی ایک نئی سائنسی تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ ہائی انٹینسٹی سرکٹ ٹریننگ خواتین کے خون میں موجود نقصان دہ پی ایف اے ایس کیمیکلز کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔ یہ ورزش جسمانی نظام کی صفائی اور صحت کو بہتر بنانے کا ایک موثر قدرتی طریقہ کار ثابت ہو رہا ہے۔
پولینڈ کی گدانسک یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی کے شعبہ ماحولیاتی انجینئرنگ کی جانب سے کی گئی ایک اہم سائنسی تحقیق میں یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ ہائی انٹینسٹی سرکٹ ٹریننگ (HICT) خواتین کے جسم میں موجود پی ایف اے ایس (PFAS) کی سطح کو کم کرنے میں ایک ممکنہ موڈیولیٹر کے طور پر کام کر سکتی ہے۔ پی ایف اے ایس ایسے کیمیکلز ہیں جو طویل عرصے تک انسانی جسم اور ماحول میں برقرار رہتے ہیں اور صحت کے لیے سنگین خطرات پیدا کر سکتے ہیں۔ محققین کے مطابق، جدید طرز زندگی میں ان کیمیکلز کا انسانی جسم میں داخلہ ایک عالمی تشویش بن چکا ہے، جس کا حل تلاش کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ اس تحقیق میں خاص طور پر اس بات کا جائزہ لیا گیا کہ کس طرح ورزش کی اعلیٰ شدت والی اقسام انسانی میٹابولزم اور جسمانی اعضاء کو متاثر کرتی ہیں۔ نتائج سے پتہ چلتا ہے کہ جب خواتین باقاعدگی سے ہائی انٹینسٹی سرکٹ ٹریننگ کا اہتمام کرتی ہیں تو ان کے خون میں موجود ان زہریلے کیمیکلز کی مقدار میں نمایاں کمی دیکھی گئی ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اس قسم کی ورزش نہ صرف کیلوریز جلانے اور پٹھوں کو مضبوط بنانے میں مدد کرتی ہے بلکہ جسمانی خون کی گردش اور پسینے کے عمل کے ذریعے نقصان دہ مرکبات کے اخراج کو بھی تیز کرتی ہے۔ تحقیقی ٹیم نے اپنے مطالعے میں واضح کیا ہے کہ یہ کیمیکلز انسانی جسم میں جمع ہو کر مدافعتی نظام اور ہارمونز پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔ لہذا، ورزش کو ایک ایسے طبی اقدام کے طور پر دیکھا جا رہا ہے جو دواؤں کے بغیر قدرتی طریقے سے جسم کو ڈیٹاکس کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اگرچہ اس حوالے سے مزید وسیع تر تحقیق کی ضرورت ہے، تاہم یہ مطالعہ ان تمام خواتین کے لیے ایک امید کی کرن ہے جو ماحولیاتی آلودگی اور نقصان دہ کیمیکلز کے اثرات سے بچنا چاہتی ہیں۔ خلاصہ یہ کہ اس تحقیق کے نتائج سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ فعال طرز زندگی اور سخت ورزش کا معمول بنانا انسانی صحت کی حفاظت میں بنیادی کردار ادا کر سکتا ہے۔ ماہرین صحت کی جانب سے مشورہ دیا گیا ہے کہ خواتین کو اپنی روزمرہ کی سرگرمیوں میں ہائی انٹینسٹی ورزش کو شامل کرنا چاہیے تاکہ طویل مدتی بنیادوں پر مضر صحت اثرات سے محفوظ رہا جا سکے۔ یہ پیش رفت ماحولیاتی طب اور ورزش کی افادیت کے درمیان تعلق کو سمجھنے میں ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتی ہے۔