LIVE
Loading Breaking News...

مائیکرو کینٹی لیورز ٹیکنالوجی اور خلیاتی تحقیق میں پیش رفت

News Image
سائنسدانوں نے مائیکرو کینٹی لیورز کا استعمال کرتے ہوئے ایک ایسی ٹیکنالوجی تیار کی ہے جو خلیات کی سطح پر ہونے والی ہلچل کو سننے کے قابل ہے۔ یہ ایجاد طبی سائنس میں بیماریوں کی ابتدائی تشخیص اور خلیاتی سطح پر تحقیق کے نئے دروازے کھولے گی۔
جدید طبی اور سائنسی تحقیق میں مائیکرو کینٹی لیورز کو انتہائی حساس اسپرنگز کی حیثیت حاصل ہے جو کہ بنیادی طور پر ایٹمک فورس مائکروسکوپی (Atomic Force Microscopy) میں استعمال ہوتے ہیں۔ حال ہی میں محققین نے ان مائیکرو کینٹی لیورز کو ایک سٹیٹھو سکوپ کی طرح استعمال کرنے کا کامیاب تجربہ کیا ہے، جس کا مقصد زندہ خلیات کی سطح پر ہونے والی باریک ترین حرکات اور آوازوں کو ریکارڈ کرنا ہے۔ یہ ٹیکنالوجی خلیات کے اندرونی ڈھانچے اور ان کی فعالیات کو سمجھنے کے لیے ایک اہم پیش رفت سمجھی جا رہی ہے۔ جب یہ مائیکرو کینٹی لیورز کسی خلیے کی سطح سے ٹکراتے ہیں تو ان کا ردعمل اس خلیے کی مورفولوجی اور اس میں ہونے والی تبدیلیاں واضح کرتا ہے۔ اس عمل سے سائنسدانوں کو یہ جاننے میں مدد ملتی ہے کہ خلیات کس طرح اپنے ماحول کے ساتھ تعامل کرتے ہیں اور بیماری کی صورت میں ان کے اندر کیا تبدیلیاں رونما ہوتی ہیں۔ اس نئی ٹیکنالوجی کی سب سے بڑی خوبی اس کی انتہائی حساسیت ہے جو خلیات کے اندر پیدا ہونے والے انتہائی دھیمے ارتعاش کو بھی پکڑنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ طبی ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر اس ٹیکنالوجی کو کلینیکل لیول تک پہنچایا جا سکا تو کینسر اور دیگر پیچیدہ امراض کی تشخیص انتہائی ابتدائی مرحلے میں ممکن ہو سکے گی۔ کیونکہ یہ ٹیکنالوجی خلیاتی سطح پر کسی بھی غیر معمولی سرگرمی کو فوری طور پر رپورٹ کرنے کی اہلیت رکھتی ہے۔ مستقبل میں اس سٹیٹھو سکوپ ٹیکنالوجی کے ذریعے ادویات کے خلیات پر اثرات کو بھی زیادہ درستگی کے ساتھ مانیٹر کیا جا سکے گا۔ اس طرح ادویات سازی اور علاج معالجے کے روایتی طریقوں میں ایک بڑی تبدیلی متوقع ہے۔ یہ سائنسی سنگ میل بائیو میڈیکل انجینئرنگ کے شعبے میں ایک نیا باب رقم کر رہا ہے اور دنیا بھر کے سائنسدان اب اس بات پر غور کر رہے ہیں کہ کیسے ان چھوٹے آلات کو زیادہ بڑے پیمانے پر تحقیق کے لیے استعمال میں لایا جائے۔