LIVE
Loading Breaking News...

امریکہ میں بے روزگاری میں اضافہ، ٹرمپ کی معاشی ساکھ کو نقصان

News Image
جولائی کے مہینے میں امریکی لیبر مارکیٹ غیر متوقع طور پر سست روی کا شکار ہو گئی جس کے نتیجے میں 23 ہزار ملازمتیں ختم کر دی گئیں۔ یہ پیش رفت وسط مدتی انتخابات سے تین ماہ قبل صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی معاشی پالیسیوں کے لیے ایک بڑا سیاسی چیلنج بن کر ابھری ہے۔
واشنگٹن میں جاری ہونے والی تازہ ترین رپورٹس کے مطابق امریکی جاب مارکیٹ جولائی کے دوران غیر متوقع طور پر جمود کا شکار ہو گئی ہے۔ لیبر مارکیٹ کے اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ آجروں کی جانب سے 23 ہزار ملازمتیں ختم کر دی گئی ہیں، جس سے معاشی ماہرین اور حکومتی حلقوں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔ یہ صورتحال ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ملک میں وسط مدتی انتخابات کے لیے صرف تین ماہ کا وقت باقی رہ گیا ہے، اور معاشی کارکردگی کسی بھی انتظامیہ کے لیے سیاسی مقبولیت کا سب سے اہم پیمانہ سمجھی جاتی ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کے لیے یہ ایک بڑا سیاسی دھچکا ہے، کیونکہ ان کی جانب سے مسلسل معاشی ترقی اور ملازمتوں کے مواقع پیدا کرنے کے دعوے کیے جا رہے تھے۔ اپوزیشن جماعتیں اب اس صورتحال کو حکومت کی ناکامی کے طور پر پیش کر رہی ہیں۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ جاب مارکیٹ میں آنے والی یہ سست روی نہ صرف ووٹرز کے اعتماد کو متاثر کر سکتی ہے بلکہ امریکی فیڈرل ریزرو کے پالیسی سازوں کے لیے شرح سود کے حوالے سے فیصلے کرنے میں بھی مشکلات پیدا کرے گی۔ اس صورتحال کے بعد کاروباری مراکز اور سرمایہ کاروں میں غیر یقینی کی فضا پائی جاتی ہے۔ اگرچہ ماہرین کا ماننا ہے کہ یہ ایک وقتی جھٹکا ہو سکتا ہے، تاہم ملازمتوں کے اعداد و شمار میں کمی اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ امریکی معیشت اب ایک کٹھن موڑ پر کھڑی ہے۔ آنے والے ہفتوں میں حکومتی اقدامات اور لیبر مارکیٹ کے مزید ڈیٹا پر سب کی نظریں مرکوز رہیں گی۔ اگر ملازمتوں کی یہ کمی برقرار رہتی ہے تو یہ صدر ٹرمپ کی انتخابی مہم کے لیے ایک مشکل امتحان ثابت ہو سکتا ہے۔ علاوہ ازیں، معاشی ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ ملازمتوں میں کمی کے پیچھے عالمی تجارتی تناؤ اور کاروباری اداروں کا محتاط رویہ کارفرما ہو سکتا ہے۔ کمپنیوں کی جانب سے نئی بھرتیوں میں تاخیر یا کٹوتی کا مطلب ہے کہ کاروباری اعتماد میں کمی آ رہی ہے جو طویل مدتی معاشی نمو کے لیے نیک شگون نہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ انتظامیہ اس بحرانی کیفیت سے نمٹنے کے لیے کیا ہنگامی اقدامات اٹھاتی ہے۔