LIVE
Loading Breaking News...

امریکا اور ایران کشیدگی: ٹرمپ کا ایران سے ہرجانے کا مطالبہ

News Image
سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ دہائیوں پر محیط نقصانات کا ازالہ کرے اور ہرجانہ ادا کرے۔ یہ پیش رفت اس وقت سامنے آئی ہے جب تہران نے آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے نئی شرائط عائد کر دی ہیں۔
امریکہ اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی میں اس وقت مزید اضافہ ہوا ہے جب سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ دہائیوں سے ہونے والے نقصانات کے بدلے بھاری ہرجانہ ادا کرے۔ یہ مطالبہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران نے عالمی تجارت کے لیے انتہائی اہم سمجھے جانے والے آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے اپنی سخت شرائط پیش کر دی ہیں۔ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ایران کو غزہ، لبنان اور دیگر خطوں میں برسوں سے جاری اپنی سرگرمیوں کے نتیجے میں پہنچنے والے نقصانات کی ذمہ داری قبول کرنی چاہیے اور امریکہ کو اس کا معاوضہ ادا کرنا چاہیے۔ بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق تہران نے آبنائے ہرمز کے حوالے سے اپنا موقف سخت کر دیا ہے، جس کے بعد خطے میں تجارتی جہازوں کی نقل و حمل کے حوالے سے خدشات پیدا ہو گئے ہیں۔ ایران نے آبنائے ہرمز کی بحالی کو مغربی پابندیوں کے خاتمے اور دیگر سفارتی مطالبات سے مشروط کر دیا ہے۔ دوسری جانب ٹرمپ انتظامیہ اور امریکی حکام کا یہ ماننا ہے کہ ایران کا یہ رویہ نہ صرف علاقائی امن کے لیے خطرہ ہے بلکہ عالمی سطح پر توانائی کی ترسیل کو بھی متاثر کر رہا ہے۔ ٹرمپ نے اپنے حالیہ بیانات میں واضح کیا ہے کہ جب تک ایران کی جانب سے کیے جانے والے نقصانات کا ازالہ نہیں ہوتا، تب تک کسی بھی قسم کی نرمی اختیار نہیں کی جائے گی۔ اس صورتحال نے عالمی برادری کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے کیونکہ آبنائے ہرمز دنیا کے اہم ترین سمندری راستوں میں شمار ہوتا ہے جہاں سے عالمی تیل کی ایک بڑی مقدار گزرتی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کا یہ مطالبہ سفارتی محاذ پر ایران پر مزید دباؤ ڈالنے کی ایک کوشش ہے۔ ادھر تہران کی جانب سے ابھی تک اس ہرجانے کے مطالبے کو مسترد کرتے ہوئے اسے ایک 'غیر قانونی اقدام' قرار دیا گیا ہے۔ تہران کا اصرار ہے کہ امریکہ کی یکطرفہ پابندیاں ہی خطے میں عدم استحکام کی اصل وجہ ہیں۔ آئندہ چند دنوں میں ہونے والی پیش رفت انتہائی اہمیت کی حامل ہو گی کیونکہ اس سے یہ طے پائے گا کہ آیا دونوں ممالک کسی سفارتی حل کی طرف بڑھیں گے یا کشیدگی ایک نئے بحران کی شکل اختیار کر لے گی۔ تجزیہ کاروں کے مطابق، ایران کی جانب سے شرائط کے ساتھ آبنائے ہرمز کو بند رکھنا عالمی منڈیوں میں تیل کی قیمتوں میں اضافے کا باعث بن سکتا ہے، جس کے اثرات پوری دنیا پر مرتب ہوں گے۔ فی الحال عالمی طاقتیں اس معاملے پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں اور کشیدگی کم کرنے کے لیے ثالثی کی کوششوں پر غور کیا جا رہا ہے۔