LIVE
Loading Breaking News...

اسپاٹی فائی پوڈ کاسٹ اشتہارات: کیا اسِپ بٹن مشتہرین کے لیے خطرہ ہے؟

News Image
اسپاٹی فائی کی جانب سے پوڈ کاسٹ اشتہارات کو اسِپ کرنے کے نئے فیچر کی آزمائش کے باوجود مشتہرین کی جانب سے کوئی نمایاں تشویش دیکھنے میں نہیں آئی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس فیچر کا حتمی اثر ابھی واضح نہیں ہوا ہے تاہم فی الحال مارکیٹ پر اس کے منفی اثرات مرتب نہیں ہوئے۔
مشہور میوزک اسٹریمنگ پلیٹ فارم اسپاٹی فائی نے حال ہی میں ایک نئے فیچر کی خاموشی سے آزمائش شروع کی ہے، جس کے تحت صارفین پوڈ کاسٹ کے دوران چلنے والے اشتہارات کو اپنی مرضی سے اسِپ (Skip) کر سکیں گے۔ اس نئی پیش رفت کے بعد میڈیا انڈسٹری میں ایک بحث چھڑ گئی ہے کہ کیا یہ اقدام پوڈ کاسٹ کے کاروباری ماڈل کو ختم کر دے گا یا پھر یہ صارفین کے تجربے کو بہتر بنانے کی ایک کوشش ہے۔ ابتدائی رپورٹس میں اسے ایک بڑے خطرے کے طور پر پیش کیا گیا تھا، لیکن موجودہ حالات کے مطابق پوڈ کاسٹ ایڈورٹائزرز کی جانب سے اب تک کوئی بڑی منفی ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔ تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ اسپاٹی فائی کا یہ فیصلہ صارفین کو پلیٹ فارم پر زیادہ دیر تک روکنے کے لیے ایک حکمت عملی ہو سکتا ہے۔ اگرچہ اشتہارات کو اسِپ کرنے کی سہولت سے مشتہرین کی پہنچ میں کمی کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے، تاہم پوڈ کاسٹ انڈسٹری کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اشتہاری کمپنیاں اب بھی پوڈ کاسٹ کی مارکیٹ پر بھروسہ کرتی ہیں۔ اسپاٹی فائی کے پلیٹ فارم پر اشتہارات کی تاثیر ابھی بھی روایتی میڈیا کے مقابلے میں کافی زیادہ ہے، یہی وجہ ہے کہ اس فیچر کے متعارف ہونے کے بعد بھی اشتہاری بجٹ میں کوئی غیر معمولی کمی دیکھنے میں نہیں آئی ہے۔ دوسری جانب، ٹیکنالوجی ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ یہ فیچر ابھی ابتدائی مراحل میں ہے اور اسے تمام صارفین کے لیے مکمل طور پر رول آؤٹ نہیں کیا گیا ہے۔ اسپاٹی فائی کی جانب سے یہ اقدام صارفین کی جانب سے طویل عرصے سے کی جانے والی اس شکایت کے جواب میں ہو سکتا ہے جس میں وہ مسلسل اشتہارات سے تنگ آ چکے تھے۔ مستقبل میں یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ آیا کمپنی اس فیچر کے ذریعے اشتہارات کی نئی شکل یا 'ٹارگٹڈ ایڈورٹائزنگ' متعارف کرواتی ہے یا پھر یہ صرف صارفین کو سہولت دینے کا ایک محدود تجربہ ہے۔ فی الحال، ایڈورٹائزنگ کی دنیا اس صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہے تاکہ یہ جان سکے کہ کیا یہ ٹول پوڈ کاسٹ کے مالیاتی نظام کے لیے واقعی کسی بڑے خطرے کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتا ہے یا نہیں۔