Education
کیمبرج کی لیکچرار امانڈا کول کا ٹوریٹ سنڈروم کے ساتھ جدوجہد کا سفر
امانڈا کول نے ثابت کر دیا ہے کہ ٹوریٹ سنڈروم جیسی اعصابی کیفیت زندگی میں کامیابی کی راہ میں رکاوٹ نہیں بن سکتی۔ وہ اب دنیا کی ممتاز ترین درسگاہ کیمبرج یونیورسٹی میں پڑھا رہی ہیں اور دوسروں کی حوصلہ افزائی کر رہی ہیں۔
ایک وقت تھا جب امانڈا کول کا ماننا تھا کہ ٹوریٹ سنڈروم (Tourette's Syndrome) ان کی زندگی کو برباد کر دے گا اور وہ کبھی بھی معاشرے میں ایک نمایاں مقام حاصل نہیں کر سکیں گی۔ تاہم، اپنی ہمت اور لگن کے بل بوتے پر انہوں نے ان تمام خدشات کو غلط ثابت کر دکھایا ہے۔ امانڈا اب کیمبرج جیسی عالمی شہرت یافتہ یونیورسٹی میں تدریسی خدمات سرانجام دے رہی ہیں، جو کہ نہ صرف ان کے لیے بلکہ اسی طرح کے حالات کا سامنا کرنے والے لاکھوں افراد کے لیے ایک امید کی کرن ہے۔ ٹوریٹ سنڈروم ایک ایسی اعصابی کیفیت ہے جس میں انسان کو غیر ارادی طور پر مختلف قسم کی حرکات (tics) یا آوازیں نکالنے پر مجبور ہونا پڑتا ہے، جس کی وجہ سے مریض اکثر سماجی دباؤ اور شرمندگی کا شکار رہتے ہیں۔
امانڈا کول ماضی میں اپنی اس حالت کو چھپانے کی مسلسل کوشش کرتی رہیں کیونکہ انہیں ڈر تھا کہ معاشرہ انہیں قبول نہیں کرے گا۔ لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ انہوں نے اس حقیقت کو تسلیم کیا کہ یہ بیماری ان کی شخصیت کا ایک حصہ ہے اور اسے چھپانے کے بجائے اس کے ساتھ جینا سیکھنا چاہیے۔ آج وہ کھلے عام اس موضوع پر بات کرتی ہیں اور دوسروں کو بھی یہ پیغام دیتی ہیں کہ وہ اپنی بیماری کے باوجود 'بغیر کسی شرمندگی کے آزادانہ طور پر' زندگی گزاریں۔ ان کا ماننا ہے کہ ٹوریٹ سنڈروم سے متاثرہ افراد کو اپنی صلاحیتوں پر یقین رکھنا چاہیے اور اسے اپنی ترقی میں رکاوٹ نہیں بننے دینا چاہیے۔
کیمبرج یونیورسٹی میں ان کا تدریسی تجربہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ تعلیمی اداروں اور ورک پلیسز میں شمولیت اور قبولیت کا کلچر کتنا اہم ہے۔ امانڈا اب ایک ایسی مہم کا حصہ ہیں جس کا مقصد معاشرے میں ٹوریٹ سنڈروم کے حوالے سے آگاہی پیدا کرنا اور لوگوں کو یہ بتانا ہے کہ یہ کوئی ایسی چیز نہیں جس پر شرمندہ ہوا جائے۔ ان کی کہانی ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ انسانی ارادہ تمام جسمانی اور اعصابی رکاوٹوں سے کہیں زیادہ طاقتور ہوتا ہے۔
امانڈا کا سفر اس بات کی ایک روشن مثال ہے کہ اگر انسان اپنے مقصد پر توجہ مرکوز رکھے تو مشکلات اسے منزل سے دور نہیں رکھ سکتیں۔ ان کی کامیابی کا سفر یہ پیغام دیتا ہے کہ تعصبات کے باوجود خود پر اعتماد قائم رکھنا ہی حقیقی کامیابی کی کنجی ہے۔ وہ آج بھی اپنے طلباء کے لیے ایک بہترین استاد اور اپنے ہم عصروں کے لیے ایک متاثر کن شخصیت کے طور پر موجود ہیں، جو دنیا کو یہ دکھا رہی ہیں کہ ایک انسان اپنی اعصابی کیفیت کو اپنی کمزوری نہیں بلکہ طاقت بنا سکتا ہے۔