World
ویلز میں زہریلے فضلے اور کینسر کے خطرات پر مائیکل شین کی دستاویزی تحقیق
مشہور اداکار مائیکل شین نے ویلز میں کینسر کا باعث بننے والے کیمیکلز کو غیر قانونی طور پر پھینکے جانے کے واقعات کی تحقیقات کی ہیں۔ ان کی تحقیق کے مطابق یہ زہریلا ورثہ مقامی آبادی کی صحت کے لیے ایک سنگین خطرہ بن چکا ہے۔
مشہور برطانوی اداکار مائیکل شین نے حال ہی میں ویلز کے مختلف علاقوں میں زہریلے کیمیکلز کے غیر قانونی ڈمپنگ کے سنگین مسئلے پر ایک تہلکہ خیز تحقیق کی ہے۔ ان کی اس تحقیق کا مقصد ان دعوؤں کی حقیقت تک پہنچنا ہے جن کے مطابق ویلز کے کئی حصوں میں ایسے خطرناک کیمیکلز کو زمین میں دبایا گیا جو کینسر جیسی جان لیوا بیماریوں کا سبب بن سکتے ہیں۔ شین کا کہنا ہے کہ اس مسئلے کی گہرائی جاننے کے بعد ان کے اوسان خطا ہو گئے اور انہیں یہ احساس ہوا کہ یہ مسئلہ کتنا وسیع اور خطرناک ہے۔
اس تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق، ویلز کے کچھ صنعتی مقامات پر برسوں سے زہریلے فضلہ کو چھپایا گیا، جس کے نتیجے میں مقامی زمین اور زیر زمین پانی بری طرح متاثر ہوا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ کیمیکلز نہ صرف ماحول کو تباہ کر رہے ہیں بلکہ ان کا اثر انسانی آبادی پر بھی براہ راست پڑ رہا ہے، جس کی وجہ سے خطے میں کینسر کے کیسز میں اضافے کے خدشات ظاہر کیے جا رہے ہیں۔ مائیکل شین نے متاثرہ علاقوں کے دورے کے دوران مقامی لوگوں سے ملاقات کی جنہوں نے اپنے پیاروں کے کینسر میں مبتلا ہونے کی المناک کہانیاں سنائیں۔
شین نے اپنی تحقیق میں حکومتی سطح پر ہونے والی غفلت اور ان کیمیکل کمپنیوں کی کارستانیوں کو بھی بے نقاب کرنے کی کوشش کی ہے جنہوں نے منافع کی خاطر مقامی لوگوں کی زندگیوں کو داؤ پر لگا دیا۔ انہوں نے اس صورتحال کو ایک 'زہریلا ورثہ' قرار دیا ہے جو آنے والی نسلوں کے لیے بھی شدید خطرہ بن سکتا ہے۔ اداکار نے مطالبہ کیا ہے کہ حکام فوری طور پر ان علاقوں کی صفائی کریں اور متاثرہ افراد کو طبی امداد فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ ان ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائیں۔
یہ دستاویزی تحقیق صرف ویلز تک محدود نہیں بلکہ یہ عالمی سطح پر ان مسائل کو اجاگر کرتی ہے جہاں ترقی کی دوڑ میں ماحولیاتی تحفظ کو نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔ مائیکل شین کی یہ کاوش ماحولیاتی کارکنوں اور انسانی حقوق کے علمبرداروں کے لیے ایک بیداری کی کال ہے تاکہ وہ صنعتی زہریلے فضلے کے خلاف آواز اٹھا سکیں۔ توقع کی جا رہی ہے کہ اس تحقیق کے بعد حکومتی سطح پر ایک بڑی تحقیقاتی کمیٹی قائم کی جائے گی جو ان تمام مقامات کا معائنہ کرے گی جہاں زہریلے کیمیکلز کے دفن کیے جانے کے خدشات موجود ہیں۔