Pakistan
میر رضا علی قتل کیس: این سی سی آئی اے کی تحقیقات میں اہم پیش رفت
این سی سی آئی اے نے میر رضا علی قتل کیس کے تناظر میں صوبائی وزیر اطلاعات شرجیل انعام میمن کے خلاف چلائی جانے والی مبینہ سوشل میڈیا مہم کی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ اس سلسلے میں چار افراد کو نوٹس جاری کر کے 13 اگست کو طلب کیا گیا ہے۔
کراچی: میر رضا علی قتل کیس کے تناظر میں سندھ کے وزیر اطلاعات شرجیل انعام میمن کے خلاف چلائی جانے والی مبینہ سوشل میڈیا مہم کا معاملہ شدت اختیار کر گیا ہے۔ اس حوالے سے نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) نے تحقیقات کا باقاعدہ آغاز کرتے ہوئے چار افراد کو طلب کر لیا ہے۔ این سی سی آئی اے کی جانب سے جاری کردہ نوٹسز میں مذکورہ افراد کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اپنی قانونی حیثیت واضح کرنے کے لیے مقررہ تاریخ کو ایجنسی کے دفتر میں پیش ہوں۔
ذرائع کے مطابق یہ کارروائی میر رضا علی قتل کیس سے جڑی ہے، جس کے بعد سوشل میڈیا پر وزیر اطلاعات کے خلاف ایک منظم مہم چلانے کے الزامات سامنے آئے تھے۔ این سی سی آئی اے کا کہنا ہے کہ سوشل میڈیا پر نفرت انگیز پروپیگنڈا اور غلط معلومات پھیلانے والوں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔ جن چار افراد کو طلب کیا گیا ہے، انہیں حکم دیا گیا ہے کہ وہ اپنے ساتھ اصل شناختی دستاویزات اور دیگر متعلقہ ریکارڈ بھی ہمراہ لائیں تاکہ تحقیقات کے عمل کو شفاف طریقے سے مکمل کیا جا سکے۔
اس سے قبل سندھ کے وزیر اطلاعات شرجیل انعام میمن نے بھی پریس کانفرنسوں کے دوران اس بات پر زور دیا تھا کہ ان کے خلاف بے بنیاد الزامات اور سوشل میڈیا پر کردار کشی کی مہم کا مقصد صوبائی حکومت کی ساکھ کو نقصان پہنچانا ہے۔ انہوں نے قانون نافذ کرنے والے اداروں سے مطالبہ کیا تھا کہ ان عناصر کو بے نقاب کیا جائے جو حقائق کو مسخ کر کے عوام میں اشتعال پھیلانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
واضح رہے کہ میر رضا علی قتل کیس صوبے میں ایک حساس معاملہ سمجھا جاتا ہے اور اس حوالے سے ہونے والی کسی بھی قسم کی سوشل میڈیا مہم پر حکومتی حلقے انتہائی محتاط ہیں۔ این سی سی آئی اے کی جانب سے حالیہ طلبی کو اس پورے معاملے میں ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ توقع ہے کہ 13 اگست کو ہونے والی پیشی کے بعد اس کیس کے مزید حقائق سامنے آئیں گے اور این سی سی آئی اے اپنی حتمی رپورٹ مرتب کرے گی جس کے بعد ہی مزید قانونی کارروائی کا لائحہ عمل طے کیا جائے گا۔