Business
ایشیا میں اسٹاک مارکیٹس کا مثبت رجحان اور تیل کی قیمتوں میں اضافہ
امریکہ میں ملازمتوں کے کمزور اعداد و شمار کے بعد ایشیائی اسٹاک مارکیٹس میں مثبت رجحان دیکھنے میں آیا ہے۔ خلیجی ممالک میں امن مذاکرات میں تعطل اور شپنگ راستوں کے خدشات کی وجہ سے عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں معمولی اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
عالمی مالیاتی منڈیوں میں آج ایک مثبت رجحان دیکھنے میں آیا ہے، جہاں ایشیائی اسٹاک مارکیٹس وال اسٹریٹ کی پیروی کرتے ہوئے اوپر کی جانب گامزن ہیں۔ یہ تیزی امریکہ کی جانب سے حال ہی میں جاری کردہ ملازمتوں کے اعداد و شمار کے بعد آئی ہے، جس نے سرمایہ کاروں میں یہ امید پیدا کی ہے کہ امریکی فیڈرل ریزرو اپنی شرح سود میں نرمی لا سکتا ہے۔ ملازمتوں کے کمزور اعداد و شمار کے بعد معاشی سست روی کے خدشات کے باوجود مارکیٹوں نے وال اسٹریٹ کے مثبت اشاروں کو خوش آئند قرار دیا ہے۔
دوسری جانب توانائی کے شعبے میں تیل کی قیمتوں میں معمولی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ ماہرین کے مطابق اس اضافے کی بڑی وجہ خلیجی ممالک کے درمیان جاری امن مذاکرات میں تعطل اور اہم سمندری شپنگ راستوں کے حوالے سے بڑھتے ہوئے خدشات ہیں۔ عالمی سطح پر سپلائی چین کے حوالے سے پیدا ہونے والی غیریقینی صورتحال نے تیل کی قیمتوں کو مسلسل دباؤ میں رکھا ہے، جس کے اثرات عالمی منڈی پر واضح طور پر دیکھے جا سکتے ہیں۔
سرمایہ کاروں کی تمام تر توجہ اب امریکہ کے آئندہ آنے والے افراط زر کے اعداد و شمار پر مرکوز ہے۔ یہ اعداد و شمار نہ صرف امریکی معیشت کی موجودہ صورتحال کو واضح کریں گے بلکہ فیڈرل ریزرو کی آئندہ پالیسیوں کے تعین میں بھی کلیدی کردار ادا کریں گے۔ اگر افراط زر میں توقع سے زیادہ کمی آتی ہے تو امکان ہے کہ عالمی منڈیوں میں مزید تیزی دیکھی جا سکتی ہے، جبکہ دوسری صورت میں سرمایہ کار محتاط رویہ اپنا سکتے ہیں۔
مجموعی طور پر، عالمی معاشی منظرنامہ اس وقت دوہرے دباؤ کا شکار ہے۔ ایک طرف شرح سود میں کمی کی امیدیں مارکیٹوں کو سہارا دے رہی ہیں، تو دوسری طرف جغرافیائی سیاسی تناؤ اور خلیجی خطے کی صورتحال توانائی کی قیمتوں کو اوپر رکھنے کا باعث بن رہی ہے۔ کاروباری حلقے اب ان اہم معاشی اعشاریوں کے منتظر ہیں جو آنے والے دنوں میں عالمی سرمایہ کاری کے رجحانات کا تعین کریں گے۔