LIVE
Loading Breaking News...

ڈیٹا پروٹیکشن اور سائبر ریزلینس: ویئم (Veeam) کا اہم اقدام

News Image
مصنوعی ذہانت کے بڑھتے ہوئے پھیلاؤ کے ساتھ انٹرپرائزز کو سائبر حملوں کے نئے چیلنجز کا سامنا ہے۔ ویئم (Veeam) نے ڈیٹا کی بحالی اور سائبر ریزلینس کو یقینی بنانے کے لیے جدید حکمت عملی متعارف کرائی ہے۔
دنیا بھر میں آرٹیفیشل انٹیلیجنس (AI) کا تیزی سے پھیلاؤ جہاں انسانی زندگی اور کاروباری عمل کو آسان بنا رہا ہے، وہیں یہ انٹرپرائزز کے لیے سائبر حملوں کا ایک نیا اور وسیع میدان بھی کھول رہا ہے۔ حالیہ اعداد و شمار کے مطابق، اے آئی ایجنٹس کے بڑھتے ہوئے استعمال نے کمپنیوں کے ڈیٹا کو غیر معمولی خطرات سے دوچار کر دیا ہے۔ اس نازک صورتحال کے پیش نظر معروف ٹیکنالوجی کمپنی ویئم (Veeam) نے اپنی توجہ 'سائبر ریزلینس' (Cyber Resilience) پر مرکوز کر دی ہے تاکہ ڈیٹا کے تحفظ کو مزید موثر بنایا جا سکے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ صرف روایتی حفاظتی اقدامات پر انحصار کرنا کافی نہیں رہا، کیونکہ جب حفاظتی دیواریں گرتی ہیں تو فوری بحالی ہی واحد راستہ بچتا ہے۔ ویئم کی نئی حکمت عملی اسی نقطہ نظر پر مبنی ہے کہ اگر پریونشن (Prevention) یعنی حملے کو روکنے کے اقدامات ناکام ہو جائیں، تو کمپنی کا ڈیٹا فوری طور پر اور بغیر کسی نقصان کے بحال ہونا چاہیے۔ یہ تبدیلی تنظیموں کو ڈیٹا گورننس اور سیکیورٹی آرکیٹیکچر پر نظر ثانی کرنے پر مجبور کر رہی ہے۔ نئی حکمت عملی کے تحت، کمپنیوں کو ڈیٹا کی حفاظت کے لیے ایک ایسے ماحولیاتی نظام کی ضرورت ہے جو اے آئی کے ذریعے کیے جانے والے خودکار حملوں کا مقابلہ کر سکے۔ ویئم کا زور اس بات پر ہے کہ ڈیٹا کی بیک اپ اور ریکوری کے عمل کو اتنا جدید بنایا جائے کہ کسی بھی ممکنہ ہیکنگ یا رینسم ویئر حملے کی صورت میں کاروبار کا تسلسل متاثر نہ ہو۔ یہ نہ صرف ڈیٹا کی حفاظت بلکہ کاروباری تسلسل کو برقرار رکھنے کے لیے ایک ناگزیر ضرورت بن چکی ہے۔ آخر میں، یہ واضح ہے کہ آنے والے وقت میں ڈیٹا کی سیکیورٹی صرف پاس ورڈز یا فائر والز تک محدود نہیں رہے گی۔ کمپنیوں کو اے آئی سے چلنے والی جدید ٹیکنالوجیز کے ساتھ ہم آہنگ ہونا پڑے گا تاکہ وہ اپنے ڈیجیٹل اثاثوں کو محفوظ رکھ سکیں۔ ویئم کا یہ اقدام یقینی طور پر عالمی سطح پر سائبر سیکیورٹی کے معیار کو بلند کرنے میں مددگار ثابت ہوگا، کیونکہ اب 'ڈیٹا ریکوری' ہی ڈیجیٹل دنیا میں بقا کی ضمانت بنتی جا رہی ہے۔