LIVE
Loading Breaking News...

نائجیریا میں بوئنگ اور ایئربس کی عدم موجودگی کی وجوہات

News Image
نائجیریا کی تیزی سے ترقی کرتی ہوئی ہوا بازی کی صنعت کے باوجود بوئنگ اور ایئربس جیسی بڑی کمپنیاں وہاں اپنی موجودگی قائم کرنے سے گریزاں ہیں۔ اس صورتحال کے پیچھے معاشی عدم استحکام، پالیسیوں میں ابہام اور بنیادی ڈھانچے کے مسائل اہم رکاوٹ ہیں۔
نائجیریا کی ہوا بازی کی صنعت گزشتہ کچھ برسوں میں تیزی سے وسعت اختیار کر رہی ہے اور مسافروں کی تعداد میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ تاہم، ایک عجیب تضاد یہ ہے کہ دنیا کی معروف ترین طیارہ ساز کمپنیاں، جیسے کہ بوئنگ اور ایئربس، نائجیریا میں اپنی براہ راست موجودگی قائم کرنے یا وہاں مینوفیکچرنگ یونٹس لگانے سے گریز کر رہی ہیں۔ ماہرین کے مطابق یہ صورتحال صرف ایک وجہ کا نتیجہ نہیں بلکہ اس میں کئی پیچیدہ معاشی اور انتظامی عوامل کارفرما ہیں۔ ان کمپنیوں کے لیے نائجیریا کی مارکیٹ میں طویل مدتی سرمایہ کاری کرنا خطرات سے خالی نہیں، جس کی بنیادی وجہ ملکی معیشت کا اتار چڑھاؤ ہے۔ سب سے بڑی رکاوٹ نائجیریا کی کرنسی کی قدر میں ہونے والی بار بار کمی اور غیر ملکی زرمبادلہ (فارن ایکسچینج) کی دستیابی کا بحران ہے۔ ہوائی جہازوں کی صنعت انتہائی مہنگی ہے اور اس میں اربوں ڈالر کا سرمایہ درکار ہوتا ہے۔ جب سرمایہ کاروں کو یہ یقین نہ ہو کہ وہ اپنی منافع کی رقم آسانی سے بیرون ملک منتقل کر سکیں گے، تو وہ بڑے منصوبوں سے پیچھے ہٹ جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ، نائجیریا میں ایوی ایشن کے شعبے کے لیے درکار بنیادی ڈھانچہ، جیسے کہ جدید بحالی کے مراکز (MRO) اور تربیت یافتہ ورک فورس کی کمی، بھی ایک اہم چیلنج ہے۔ عالمی کمپنیوں کے لیے ضروری ہے کہ انہیں ایک ایسا مستحکم کاروباری ماحول ملے جہاں قوانین وقت کے ساتھ تبدیل نہ ہوں۔ مزید برآں، نائجیریا کے مقامی ایئر لائن آپریٹرز کو بھی شدید مشکلات کا سامنا ہے، جس کی وجہ سے وہ نئے جہاز خریدنے کے بجائے پرانے طیاروں کو لیز پر لینے کو ترجیح دیتے ہیں۔ یہ صورتحال براہ راست بوئنگ اور ایئربس جیسی کمپنیوں کے سیلز ماڈل کو متاثر کرتی ہے۔ اگر نائجیریا حکومت اپنی پالیسیوں میں اصلاحات لائے، ٹیکس کے نظام کو آسان بنائے اور سرمایہ کاروں کو طویل مدتی تحفظ فراہم کرے، تو یہ صورتحال تبدیل ہو سکتی ہے۔ تاہم، موجودہ حالات میں یہ بڑی کمپنیاں براہ راست موجودگی کے بجائے صرف ڈیلرز اور تھرڈ پارٹی ایجنٹس کے ذریعے کام چلانے کو ہی ترجیح دے رہی ہیں تاکہ اپنے کاروباری نقصانات سے بچ سکیں۔