LIVE
Loading Breaking News...

ملیریا کے خاتمے کے لیے آرٹیفیشل انٹیلیجنس کا استعمال شروع

News Image
پاکستان اور نائیجیریا کے نیشنل ملیریا الیمینیشن پروگرام نے نجی شعبے کے ڈیٹا کو مربوط کرنے کے لیے جدید آرٹیفیشل انٹیلیجنس ٹیکنالوجی کا سہارا لیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد ملیریا کے کیسز کی درست نشاندہی اور بیماری کے خاتمے کی کوششوں کو مزید موثر بنانا ہے۔
نیشنل ملیریا الیمینیشن پروگرام اور سپروکسل نائیجیریا لمیٹڈ نے ملیریا کی نگرانی کے نظام کو بہتر بنانے اور اس میں موجود خامیوں کو دور کرنے کے لیے مصنوعی ذہانت (AI) کے استعمال کا ایک اہم منصوبہ شروع کیا ہے۔ حکومتی حکام کے مطابق، نجی ہیلتھ کیئر فراہم کرنے والوں کے پاس موجود ڈیٹا اکثر سرکاری ریکارڈز سے محروم رہ جاتا ہے، جس کی وجہ سے بیماری کے پھیلاؤ کا درست اندازہ لگانا مشکل ہوتا ہے۔ اس نئی شراکت داری کا بنیادی مقصد نجی شعبے کے ڈیٹا کو ڈیجیٹل پلیٹ فارم کے ذریعے مربوط کرنا ہے تاکہ ملیریا کے کیسز کی بروقت اور درست رپورٹنگ کو یقینی بنایا جا سکے۔ طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ مصنوعی ذہانت کا استعمال اس بیماری کے تدارک کے لیے ایک انقلابی قدم ثابت ہوگا۔ اے آئی الگورتھمز کے ذریعے نجی کلینکس اور ہسپتالوں سے حاصل ہونے والے ڈیٹا کا تجزیہ کیا جائے گا، جس سے بیماری کے ہاٹ سپاٹ کی نشاندہی میں مدد ملے گی۔ اب تک ملیریا کے کیسز کے اعداد و شمار میں جو کمی دیکھی جا رہی تھی، اس کا بڑا سبب یہی تھا کہ نجی شعبے کا ڈیٹا مرکزی نظام میں شامل نہیں تھا۔ نئی ٹیکنالوجی کے ذریعے اب بیماری کے پھیلاؤ کے پیٹرنز کو سمجھنا اور ان کے خلاف فوری کارروائی کرنا ممکن ہو سکے گا، جس سے ملیریا کے خاتمے کی حکومتی کوششوں کو نئی تقویت ملے گی۔ اس منصوبے کے تحت سپروکسل کی جدید ٹیکنالوجی نجی ہیلتھ کیئر سیکٹر کو سرکاری نگرانی کے نظام کے ساتھ منسلک کرے گی۔ یہ اقدام نہ صرف بیماری کی شرح کو کم کرنے میں مدد دے گا بلکہ ادویات کی فراہمی اور وسائل کی تقسیم کو بھی بہتر بنائے گا۔ حکومتی حکام کا مزید کہنا ہے کہ اس منصوبے کو کامیاب بنانے کے لیے نجی ڈاکٹروں اور فارماسیوٹیکل کمپنیوں کا تعاون انتہائی ضروری ہے تاکہ بیماری کا کوئی بھی کیس غیر رپورٹ شدہ نہ رہ جائے۔ اے آئی کی مدد سے ڈیٹا کے معیار میں بہتری لائی جائے گی جس سے مستقبل میں ملیریا کے مکمل خاتمے کے اہداف کو حاصل کرنا آسان ہو جائے گا۔