LIVE
Loading Breaking News...

امریکہ ایران کشیدگی، تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ

News Image
امریکہ اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی اور آبنائے ہرمز کے بند رہنے کے خدشات کی وجہ سے عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ اس صورتحال کے باعث ایشیائی اسٹاک مارکیٹس میں بھی بے یقینی کی فضا اور ملا جلا رجحان دیکھا جا رہا ہے۔
عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں ایک بار پھر اضافہ دیکھا گیا ہے جس کی بنیادی وجہ امریکہ اور ایران کے درمیان جاری شدید سفارتی اور عسکری تعطل ہے۔ اطلاعات کے مطابق ایران کی جانب سے ایسے اشارے ملے ہیں کہ آبنائے ہرمز کو فی الحال بند رکھا جا سکتا ہے، جس کے بعد تیل کی سپلائی کے حوالے سے خدشات بڑھ گئے ہیں۔ اس بحران کی وجہ سے امریکی تیل کی قیمتیں ایک بار پھر 82 ڈالر فی بیرل سے اوپر چلی گئی ہیں کیونکہ سرمایہ کاروں کے درمیان یہ شبہ گہرا ہوتا جا رہا ہے کہ واشنگٹن اور تہران کے مابین کسی قسم کے معاہدے کے امکانات فی الحال معدوم ہیں۔ ماہرین اقتصادیات کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز دنیا کی تیل کی ترسیل کا ایک انتہائی اہم بحری راستہ ہے اور اس میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ عالمی معیشت اور توانائی کی سپلائی لائنز کو شدید متاثر کر سکتی ہے۔ ایران نے واضح کیا ہے کہ اس اہم تجارتی راستے کو دوبارہ کھولنے کا انحصار امریکہ کی طرف سے مستقبل کے مذاکرات کے وعدوں اور عملی اقدامات پر ہے۔ دوسری طرف اس کشیدگی اور بڑھتی ہوئی مہنگائی کے خدشات کے اثرات وال اسٹریٹ اور ایشیائی اسٹاک مارکیٹس پر بھی واضح طور پر دکھائی دے رہے ہیں۔ ایشیا میں سرمایہ کار کسی بھی ناخوشگوار صورتحال سے بچنے کے لیے محتاط رویہ اختیار کیے ہوئے ہیں اور اسٹاک مارکیٹس میں ملا جلا رجحان پایا جا رہا ہے۔ تجارتی ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کم نہ ہوئی تو آنے والے دنوں میں توانائی کے بحران میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے جو دنیا بھر کے مالیاتی بازاروں کو اپنی لپیٹ میں لے سکتا ہے۔