LIVE
Loading Breaking News...

ایران میں نئی اعلیٰ سطح کی تقرریاں: سپریم لیڈر کا سکیورٹی اداروں پر کنٹرول مزید سخت

News Image
ایران کے سپریم لیڈر نے ملک کے اہم ترین سکیورٹی عہدوں پر سخت گیر کمانڈروں کو تعینات کر کے اپنی طاقت کو مزید مستحکم کر لیا ہے۔ ان تقرریوں سے علاقائی سیاست اور سکیورٹی معاملات میں سخت گیر پالیسیوں کے غلبے کا اشارہ ملتا ہے۔
ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے ملک کے سکیورٹی ڈھانچے میں بڑے پیمانے پر تبدیلیاں کرتے ہوئے اہم ترین عہدوں پر سخت گیر اور تجربہ کار کمانڈروں کو تعینات کر دیا ہے۔ اس اقدام کو مبصرین ملکی سیاست اور قومی سلامتی کے معاملات پر سپریم لیڈر کی گرفت کو مزید مضبوط کرنے کی ایک بڑی کوشش کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔ نئی تقرریوں میں پاسدارانِ انقلاب (IRGC) کے پرانے اور بااثر کمانڈر محسن رضائی کا انتخاب سرفہرست ہے، جنہیں ملکی سکیورٹی کی اہم ذمہ داریاں سونپی گئی ہیں۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں ہوئی ہے جب ایران کو اندرونی اور بیرونی چیلنجوں کا سامنا ہے اور ملک کی حکمت عملی میں مزید سخت گیر رویے کی جھلک واضح ہے۔ محسن رضائی کا شمار ایران کے ان عسکری رہنماؤں میں ہوتا ہے جو برسوں تک پاسدارانِ انقلاب کی قیادت کر چکے ہیں اور انہیں ملکی سکیورٹی معاملات کا گہرا تجربہ حاصل ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق، ان جیسے سخت گیر رہنماؤں کی تقرری اس بات کی غمازی کرتی ہے کہ تہران اپنی علاقائی اور عالمی پالیسیوں میں کسی قسم کے سمجھوتے کے بجائے طاقت کے استعمال اور سکیورٹی پر مبنی نقطہ نظر کو ترجیح دے رہا ہے۔ اس تبدیلی سے علاقائی امن کے عمل پر بھی اثرات مرتب ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے، کیونکہ نئے سکیورٹی سیٹ اپ کا مقصد داخلی استحکام کو یقینی بنانے کے ساتھ ساتھ بیرونی خطرات کا بھرپور جواب دینا ہے۔ ایران کی موجودہ سیاسی صورتحال پر نظر رکھنے والے ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ تقرریاں صرف انتظامی تبدیلی نہیں بلکہ ایک وسیع تر حکمت عملی کا حصہ ہیں جس کا مقصد ملک کے اہم اداروں پر سپریم لیڈر کے وفاداروں کا مکمل کنٹرول قائم کرنا ہے۔ پاسدارانِ انقلاب کے سابقہ کمانڈروں کو کلیدی عہدے دینے سے ریاستی مشینری میں عسکری اثر و رسوخ میں اضافہ ہو گا، جو کہ ایران کی خارجہ اور داخلی پالیسی کو مزید مربوط کرنے میں مدد دے گا۔ تاہم، یہ اقدامات بین الاقوامی سطح پر ایران کے ساتھ مذاکرات کے عمل کو مزید پیچیدہ بنا سکتے ہیں۔ عالمی میڈیا میں گردش کرنے والی رپورٹس کے مطابق، ان تقرریوں کے بعد ایران کی سکیورٹی کونسل اور دیگر اہم اداروں میں فیصلہ سازی کا عمل مکمل طور پر سخت گیر حلقوں کے زیر اثر آ گیا ہے۔ آیت اللہ خامنہ ای نے اس فیصلے کے ذریعے یہ پیغام دیا ہے کہ ایران کے قومی مفادات کے تحفظ کے لیے اب کسی بھی حد تک سخت موقف اختیار کیا جا سکتا ہے۔ آنے والے وقت میں یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ آیا یہ نئی ٹیم معاشی بحرانوں اور سفارتی دباؤ کے درمیان ملک کو کس سمت میں لے کر جاتی ہے۔