Health
ہیپاٹائٹس سی کا خاتمہ: انگلینڈ کی بڑی کامیابی
برطانیہ کے محکمہ صحت کی تازہ ترین رپورٹس کے مطابق انگلینڈ ہیپاٹائٹس سی کے مرض کو مکمل طور پر ختم کرنے کی جانب تیزی سے گامزن ہے۔ اگر یہ پیش رفت اسی رفتار سے جاری رہی تو انگلینڈ دنیا کے ان چند ممالک میں شامل ہو جائے گا جنہوں نے اس خطرناک جگر کے وائرس پر مکمل قابو پا لیا ہے۔
برطانیہ کا محکمہ صحت 'این ایچ ایس' انگلینڈ میں ہیپاٹائٹس سی جیسی مہلک بیماری کے خاتمے کے لیے ایک تاریخی سنگ میل عبور کرنے کے قریب ہے۔ تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق، انگلینڈ دنیا کے ان چند ممالک میں شامل ہونے والا ہے جنہوں نے جگر کو شدید نقصان پہنچانے والے اس وائرس کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے لیے ٹھوس اقدامات کیے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ بروقت تشخیص، جدید علاج کی فراہمی اور عوامی آگاہی مہمات کی وجہ سے ہیپاٹائٹس سی کے مریضوں کی تعداد میں ریکارڈ کمی دیکھی گئی ہے۔
ہیپاٹائٹس سی ایک خاموش قاتل کے طور پر جانا جاتا ہے جو انسانی جگر کو آہستہ آہستہ تباہ کر دیتا ہے اور اگر اس کا علاج نہ کیا جائے تو یہ جگر کے کینسر یا جگر فیل ہونے جیسی جان لیوا پیچیدگیوں کا سبب بن سکتا ہے۔ انگلینڈ میں حکومتی سطح پر چلائے جانے والے پروگراموں کے تحت ہائی رسک گروپوں کی سکریننگ کو یقینی بنایا گیا ہے، جس کی بدولت بیماری کو ابتدائی مراحل میں ہی پکڑنا ممکن ہوا ہے۔ جدید اینٹی وائرل ادویات کی دستیابی نے اس سفر کو مزید آسان بنا دیا ہے، جس سے مریضوں کی ایک بڑی تعداد مکمل شفایابی حاصل کر رہی ہے۔
صحت کے عالمی اداروں نے انگلینڈ کی اس کوشش کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ یہ کامیابی دیگر ممالک کے لیے بھی ایک مثال ہو سکتی ہے۔ ہیپاٹائٹس سی کا مکمل خاتمہ نہ صرف صحت عامہ کے نظام پر بوجھ کم کرے گا بلکہ ہزاروں قیمتی زندگیاں بچانے میں بھی مددگار ثابت ہوگا۔ حکام کا کہنا ہے کہ ان کا ہدف 2030 تک اس وائرس کو مکمل طور پر عوامی صحت کے لیے خطرہ نہ بننے دینا ہے، جس کے لیے وہ مسلسل نگرانی اور ٹیسٹنگ کے عمل کو جاری رکھیں گے۔ یہ پیش رفت طبی سائنس اور عوامی نظم و نسق کی ایک شاندار مثال پیش کرتی ہے۔